ہیت میں لڑائی، موصل میں حملہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی عراقی شہر موصل میں ایک خود کش حملہ آور نے ایک امریکی فوجی قافلے سے گاڑی ٹکرا کر تین افراد کو ہلاک اور تقریباً بیس افراد کو زخمی کر دیا۔ چشم دید گواہوں کا کہنا ہے کہ ایک پک اپ ٹرک قافلے کے برابر سے گزرتہ ہوئے دھماکے سے پھٹ گیا۔ ہسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں دو عراقی شہری ہلاک ہوئے ہیں اور امریکی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک امریکی فوجی بھی ہلاک ہوا ہے۔ اس سے عراقی دارالحکومت بغداد کے مغربی شہر ہیت میں امریکی فوج اور مزاحمت کارو کے درمیان شدید لڑائی کی جاری ہونے کی خبریں تھیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ انہیں اس وقت فضائی امداد طلب کرنی پڑی جب لگ بھگ ایک سو مسلح مزاحمت کاروں نے ان کے ایک کارواں پر حملہ کردیا۔ اطلاعات کے مطابق مزاحمت کاروں نے ایک مقامی مسجد میں پناہ لے لی جو فضائی بمباری کی زد میں آگئی اور اس میں آگ لگ گئی۔ دریں اثناء ریڈیکل شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کے مسلح کارکنوں نے عبوری حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت ہتھیار حکومتی اہلکاروں کے پاس جمع کرنے شروع کردیے ہیں۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ہتھیار جمع کرانے کا عمل پہلے دن سست رہا اور ایک مقام پر ہتھیار جمع کرانے والوں کو دینے کے لیے امریکی ڈالروں کا بنڈل رکھا ہوا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||