سلوٹ سے افواہوں کا بازار گرم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں صدارتی انتخابات کے سلسلے میں ہونے والے مباحثے کے دوران صدر بش کے کوٹ کی پشت پر پڑنے والے ابھار کی وجہ سے امریکی ذرائع ابلاغ میں افواہوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ کئی ویب سائٹس پر یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ کوٹ کے نیچے صدر بش نے ایک ریڈیو رسیور لگا رکھا تھا جس کے ذریعے صدر بش کسی تیسرے شخص سے سوالات کے جوابات دینے کے لیے مدد لے رہے تھے۔ صدر بش کی مہم چلانے والوں نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ کوٹ کی پشت پر یہ ابھار شکن کے سوا کچھ نہیں تھا۔ انہوں نے ان دعووں کی بھی تردید کی ہے کہ صدر بش نے بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی تھی۔ صدر بش کی صدارتی مہم کے مینیجر اسکاٹ سٹنزل نے فرانسیسی خبررساں ادارے کو بتایا کہ لوگ انٹر نیٹ کی سائٹس پر چلنے والی افواہوں پر بہت زیادہ توجہ دینے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سلائی کا مسلئہ ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ صدر بش کی مہم کے ایک اور اہلکار نے کہا کہ ان کے کوٹ میں کچھ نہیں تھا۔ صدر بش کے درزی نے ذارئع ابلاغ کو بتایا کہ صدر بش کے کوٹ کی پشت میں سلائی کے ساتھ یہ شکن تھی۔ جارجز ڈی پیرس نےجو صدر بش کے سوٹ سیتے ہیں کہا کہ صدر بش نے جب اپنا ہاتھ آگے بڑہایا تو یہ ابھار یا شکن اور زیادہ واضح ہو گئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||