اقوامِ متحدہ کے 13 ملازم گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے اقوامِ متحدہ کے تیرہ ملازمین کو اس شبہے پر گرفتار کر لیا ہے کہ وہ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ اسرائیلی فوج کے ایک جرنیل یسرائیل زیو کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کے ان گرفتار ملازمین کے خلاف فردِ جرم عائد کی جائے گی۔ لیکن انہوں نے اس کی کوئی تفصیل نہیں بتائی کہ گرفتار ہونے والوں کا تعلق کن ممالک سے ہے اور وہ کیا کام کرتے تھے۔ ادھر اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ فلسطینیوں پر لگائے جانے والے ان الزامات کے بارے میں وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ فلسطینی اقوامِ متحدہ کی ایمبولینس گاڑیاں کے ذریعے میزائلوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جا رہے تھے۔ یروشلم میں بی بی سی نامہ نگار کے مطابق اس طرح لگائے جانے والی الزامات کا مطلب حماس جیسے شدت پسند گروہوں کی رکنیت ہوتا ہے۔ درایں اثناء اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان اسرائیل کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات کی تفتیش کرنے ایک ٹیم بھیج رہے ہیں۔ فلسطین میں امدادی کام کرنے والی اقوام متحدہ کی ٹیم کے سربراہ پیٹر ہینسین نے کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے جاری کردہ تصاویر میں صرف ایک سٹریچر نظر آ رہا ہے۔ انہوں نے اسرائیل کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو پراپیگنڈہ قرار دیا جس نے اقوام متحدہ کے کارکنوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ پیر کے دن اقوام متحدہ کی ایجنسی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ اس الزام تراشی پر معافی مانگے کہ ایجنسی کی ایمبولینس کو حماس نے راکٹ لیجانے کے لۓ استعمال کیا تھا۔ اب اسرائیلی جنرل نے کہا ہے کہ وڈیو کی تصویروں پر خراشیں تھیں اس لۓ ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ایمبو لینس میں راکٹ رکھا جارہا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||