BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 September, 2004, 13:56 GMT 18:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانوی مغوی کی نئی وڈیو فلم
کینتھ بگلی
اس وڈیو میں برطانوی کنسٹرکشن ورکر بگلی کو ایک لوہے کے پنجرے میں قید دکھایا گیا ہے
عربی ٹیلی ویژن سٹیشن الجزیرہ نے ایک نئی وڈیو فلم نشر کی ہے جس میں عراق میں اغوا کیے گئے برطانوی شخص کینتھ بگلی کو دکھایا گیا ہے۔

اس وڈیو میں برطانوی کنسٹرکشن ورکر بگلی کو ایک لوہے کے پنجرے میں پھنسا ہوا دکھایا گیا ہے۔ وہ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر سے اپیل کررہے ہیں کہ ان کے اغوا کاروں کے مطالبات پورے کردیے جائیں۔ وڈیو میں بگلی رو رہے ہیں، انہوں نے نارنجی رنگ کے کپڑے پہن رکھے ہیں اور وہ گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے ہیں۔

کینتھ بگلی کہہ رہے ہیں کہ ان کے اغوا کاروں نے انہیں بتایا ہے کہ وہ بگلی کو مارنا نہیں چاہتے۔ اس میں وہ ٹونی بلیئر کے بارے میں یہ بھی کہتے سنے گئے ہیں کہ ’انہیں میری کوئی پرواہ نہیں کیونکہ میں صرف ایک فرد ہوں‘۔

الجزیرہ کی اناؤنسر کا کہنا ہے کہ بگلی نے بلیئر پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے جھوٹ بولا ہے اور ان کی رہائی کے لیے وزیر اعظم نے سرے سے کوئی مذاکرات ہی نہیں کیے۔

اس وڈیو سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ اسے کب فلمایا گیا تھا۔

کینتھ بگلی کے ساتھ اغوا کیے گئے دو امریکی شہریوں کو اغوا کاروں نے ہلاک کردیا تھا۔

دریں اثناء، عراق ہی سے رہا کئے گئے اطالوی اور مصری مغویوں نے اپنے تجربات بیان کیے ہیں۔ منگل کو رہا ہونے والے اطالوی افراد میں سے ایک خاتون سمونا توریتا نے کہا ہے کہ اغوا کار ان کے ساتھ عزت سے پیش آئے۔ انہوں نے اپنے اغوا کاروں کے بارے میں کہا ’وہ مذہبی لوگ تھی اور انہوں نے ہمیں اغوا کرنے پر ہم سے معا فی بھی مانگی‘۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد