پاک بھارت امن کی کوششیں کہاں پہنچیں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اپریل 2003 سابق بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اپنے اہم خطاب کے دوران پاکستان کی طرف ’دوستی کا ہاتھ‘ بڑھایا تھا۔ یہ تقریر انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان کئی ماہ کی کشیدگی کے بعد کی۔ اس کشیدگی کے نتیجے میں دسمبر دو ہزار ایک میں پاک بھارت جنگ کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔ نامہ نگاروں کے الفاظ میں ’جوئے‘ کی چال چلتے ہوئے واجپائی نے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان امن کا قیام صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ مئی 2003 پاکستان کی جیلوں میں قید کئی بھارتی قیدیوں کو رہا کردیا گیا جس کے جواب میں بھارت نے بھی ایسا ہی کیا۔ اگست 2003 تاریخ میں پہلی مرتبہ بھارت اور پاکستان نے مشترکہ طور پر یوم آزادی کے جشن منائے۔ اکتوبر 2003 بھارت نے پاکستان کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے لیے کئی اقدامات کا اعلان کیا۔ مسئلہ کشمیر پر بھی بات ہوئی۔ نومبر 2003 لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کا اعلان کیا گیا۔ اس سے قبل دونوں ممالک نے اپنی اپنی فوج کو فائرنگ روکنے کا حکم دیا تھا۔ دسمبر 2003 جنوری 2004 اسلام آباد میں علاقائی ممالک کے ایک اجلاس کے دوران دونوں ملکوں میں مذاکرات ہوئے جسے دونوں ہی نے ایک مثبت قدم قرار دیا۔ مشرف اور واجپائی کی پہلی ملاقات تین گھنٹے طویل رہی۔ اختتام ماہ، بھارت اور اس کے زیر انتظام کشمیر کے اعتدال پسند رہنماؤں نے پہلی مرتبہ مذاکرات کیے اور اس بات پر اتفاق کیا کہ متنازعہ علاقے سے تشدد ختم ہونا چاہیے۔ فروری 2004 تین سال بعد پہلی مرتبہ دونوں ممالک نے کشمیر کے مسئلہ پر باقاعدہ مذاکرات کیے۔ اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات تین دن جاری رہے۔ مارچ 2004 مئی 2004 پاکستان نے بھارت کے نئے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے اس عہد کا خیر مقدم کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔ جون 2004 بھارت اور پاکستان نے جوہری ہتھیاروں کے تجربات پر عائد پابندی کی تجدید کی اور ایک ہاٹ لائن قائم کی تاکہ ایک دوسرے کو بڑے جوہری خطرات سے آگاہ کرسکیں۔ ستمبر 2004 دونوں ممالک کے وزراء خارجہ نے دہلی میں ملاقات کی جو تین سال میں پہلی اعلٰی سطحی سرکاری ملاقات تھی۔ دونوں ممالک کا کہنا تھا کہ کچھ پیش رفت ہوئی ہے تاہم کم ہی نتائج ایسے نکلے جس سے اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہو۔ کشمیر کا مسئلہ اب بھی اتنا ہی الجھا ہوا دکھائی دیتا ہے جیسا کہ کبھی ماضی میں نظر آتا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||