BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 September, 2004, 12:49 GMT 17:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک بھارت امن کی کوششیں کہاں پہنچیں؟
واجپائی
اپریل 2003 میں واجپائی نے پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا
اپریل 2003

سابق بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اپنے اہم خطاب کے دوران پاکستان کی طرف ’دوستی کا ہاتھ‘ بڑھایا تھا۔

یہ تقریر انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان کئی ماہ کی کشیدگی کے بعد کی۔ اس کشیدگی کے نتیجے میں دسمبر دو ہزار ایک میں پاک بھارت جنگ کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔

نامہ نگاروں کے الفاظ میں ’جوئے‘ کی چال چلتے ہوئے واجپائی نے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان امن کا قیام صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

مئی 2003
بھارت نے دہلی اور لاہور کے درمیان بس سروس کی بحالی کا اعلان کیا۔پاکستان نے اسےایک مثبت قدم قرار دیا۔ اسی ماہ دونوں ممالک نے سفارتی تعلقات بحال کرتے ہوئے اپنے اپنے ہائی کمشنرز کو نامزد کیا۔

پاکستان کی جیلوں میں قید کئی بھارتی قیدیوں کو رہا کردیا گیا جس کے جواب میں بھارت نے بھی ایسا ہی کیا۔

اگست 2003

تاریخ میں پہلی مرتبہ بھارت اور پاکستان نے مشترکہ طور پر یوم آزادی کے جشن منائے۔

اکتوبر 2003

بھارت نے پاکستان کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے لیے کئی اقدامات کا اعلان کیا۔ مسئلہ کشمیر پر بھی بات ہوئی۔

نومبر 2003

لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کا اعلان کیا گیا۔ اس سے قبل دونوں ممالک نے اپنی اپنی فوج کو فائرنگ روکنے کا حکم دیا تھا۔

دسمبر 2003
دو سال کی پابندیوں کے بعد بھارت اور پاکستان نے یکم جنوری سے براہ راست فضائی رابطے بحال کرنے کا اعلان کیا۔

جنوری 2004

اسلام آباد میں علاقائی ممالک کے ایک اجلاس کے دوران دونوں ملکوں میں مذاکرات ہوئے جسے دونوں ہی نے ایک مثبت قدم قرار دیا۔ مشرف اور واجپائی کی پہلی ملاقات تین گھنٹے طویل رہی۔

اختتام ماہ، بھارت اور اس کے زیر انتظام کشمیر کے اعتدال پسند رہنماؤں نے پہلی مرتبہ مذاکرات کیے اور اس بات پر اتفاق کیا کہ متنازعہ علاقے سے تشدد ختم ہونا چاہیے۔

فروری 2004

تین سال بعد پہلی مرتبہ دونوں ممالک نے کشمیر کے مسئلہ پر باقاعدہ مذاکرات کیے۔ اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات تین دن جاری رہے۔

مارچ 2004
انیس سو نواسی کے بعد بھارت سے کرکٹ کے تیس ہزار شائقین نے پاکستان کا دورہ کرکے پاک بھارت میچ دیکھا۔

مئی 2004

پاکستان نے بھارت کے نئے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے اس عہد کا خیر مقدم کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔

جون 2004

بھارت اور پاکستان نے جوہری ہتھیاروں کے تجربات پر عائد پابندی کی تجدید کی اور ایک ہاٹ لائن قائم کی تاکہ ایک دوسرے کو بڑے جوہری خطرات سے آگاہ کرسکیں۔

ستمبر 2004

دونوں ممالک کے وزراء خارجہ نے دہلی میں ملاقات کی جو تین سال میں پہلی اعلٰی سطحی سرکاری ملاقات تھی۔ دونوں ممالک کا کہنا تھا کہ کچھ پیش رفت ہوئی ہے تاہم کم ہی نتائج ایسے نکلے جس سے اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہو۔ کشمیر کا مسئلہ اب بھی اتنا ہی الجھا ہوا دکھائی دیتا ہے جیسا کہ کبھی ماضی میں نظر آتا تھا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد