افغان انتخابی مہم پاکستان میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صدارتی انتخابات میں صرف سولہ دن باقی رہ گئے ہیں جس وجہ سے امیدواروں کی انتخابی مہم میں تیزی آرہی ہے۔ ایسی گرماگرمی پاکستان میں بھی پیدا ہوتی نظر آرہی ہے جہاں افغان پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد ان انتخابات میں ووٹ ڈالے گی۔ البتہ چند مبصرین کے خیال میں پاکستان میں اب تک کی مہم کرزئی کے حق میں یکطرفہ دکھائی دے رہی ہے۔ افغان انتخابات کا دن قریب آنے کے ساتھ ساتھ پشاور کے افغان آبادی والے علاقوں میں انتخابی سرگرمیوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سڑکوں پر تو جلسے اور جلوس تو نظر نہیں آتے لیکن ہوٹلوں اور گھروں میں انتخابی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اقوام متحدہ اور افغان انتخابی کمیشن متحرک ہونے کے ساتھ ساتھ انتخابات کے حامی اور مخالفین بھی سرگرم ہوئے ہیں۔ ایک سابق سفارت کار عبدالجبار نعیمی کے مطابق صدر حامد کرزئی نے پاکستان میں اپنی انتخابی مہم چلانے کے لئے انہیں بھیجا ہے۔ انہوں نے جمعرات کو ایک اخباری کانفرنس میں امید کا اظہار کیا کہ پاکستان میں افغان بھی بڑھ چڑھ کر انتخابات میں حصہ لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پناہ گزینوں کے رہنماؤں اور اساتذہ نے یقین دلایا ہے کہ وہ انتخابی عمل کو کامیاب بنائیں گے۔ دوسری جانب سابق گورنر ننگرہار حاجی قدیر کے صاحبزادے حاجی داؤد ارسلا کا بھی کہنا ہے کہ انہیں حامد کرزئی نے ان کی انتخابی مہم چلانے کے لئے بھیجا ہے۔ ان میں سے اصل کون ہے اور کون صرف نمبر بنانے کے لئے ایسا کر رہا ہے یہ بتانا مشکل ہے۔ تاہم جب یہی سوال عبدالجبار سے کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں خوشی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان انتخابات کو کامیاب بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انتخابی مہم کے سلسلے میں پناہ گزینوں کے نمائندوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے اور صدر کرزئی کا ایک انتخابی دفتر بھی کھولا گیا ہے۔ لیکن ابھی تک کسی صدارتی امیدوار کے خود یہاں آ کر کسی انتخابی جلسے یا جلوس میں شریک ہونے کا کوئی پروگرام سامنے نہیں آیا ہے۔ ایک جانب تو کرزئی کی مہم دو دو گروہ چلا رہے ہیں تو دوسری جانب باقی سترہ صدارتی امیدواروں کی جانب سے کوئی سرگرمی نظر نہیں آرہی۔ یہی خیالات ایک افغان صحافی نجیب عامر کے بھی تھے۔ ’اب تک کی ساری مصروفیات یکطرفہ ہی نظر آرہی ہیں۔ صرف وہ سرگرم ہیں جنہیں معلوم ہے کہ کرزئی نے ہی کامیاب ہونا ہے‘۔ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے تو ماسوائے کرزئی گروپ دیگر سرگرم نہیں لیکن ان انتخابات کے اسلامی تحریک طالبان اور سابق وزیر اعظم گلبدین حکمتیار جیسے مخالفین کی سرگرمیاں تیز ہوئی ہیں۔ انہوں نے پناہ گزینوں میں دستی پیغامات تقسیم کئے ہیں جن میں انہیں ووٹ ڈالنے سے منع کیا گیا ہے۔ تاہم کرزئی کے نمائندہ عبدالجبار کا کہنا ہے کہ اس سے انہیں کوئی تشویش لاحق نہیں کیونکہ اس قسم کے پیغامات کے باوجود افغانستان میں توقعات سے زیادہ ووٹرز نے اندراج کروایا ہے۔ پشاور کے افغان پناہ گزینوں سے پوچھا گیا کہ وہ کیا سمجھتے ہیں انتخابات سے انہیں کوئی فائدہ ہوگا تو ان کا کہنا تھا ’ کیوں نہیں۔ بائیس برس کی خانہ جنگی کے بعد تو انہیں انتخابات میں حصہ لینے کا موقعہ ملا ہے‘۔ ایک افغان شخص کا کہنا تھا کہ جب تک یہ سب اسلام کے ماتحت نہیں ہوتے کوئی کامیابی نہیں مل سکتی ہے۔ افغان بظاہر انتخابات میں حصہ لینے میں دلچسپی رکھتے ضرور ہیں لیکن کیا اس سے ان پر کوئی مثبت اثرات پڑ سکتے ہیں اس بارے میں وہ زیادہ پرامید نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||