’نہیں، ایسی کوئی علامت نہیں ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بین الاقوامی جوہری ادارے کے سربراہ محمد البرادعی نے کہا ہے کہ امریکی الزام کے برعکس ایران میں پارچین کے مقام پر جوہری پروگرام سے متعلق کسی طرح کی کوئی علامت نہیں ہے۔ بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے برادعی نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کا کوئی فوری خطرہ نہیں ہے اور یہ کہ عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیار تلاش کرنے میں ناکامی کے بعد تیزی کے ساتھ نتائج اخذ کرنا غلط ہوگا۔ ادھر ایک کے ایک اعلی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ تہران اس بات کی مزید یقین دہانی کرانے پر تیار ہے کہ اس کا یورنیم کی افزودگی کا پروگرام صرف پُر امن مقاصد کے لیے ہے۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے میں ایک قرارداد پیش کی ہے جس میں ایران سے یورینیم افزودہ کرنے کا ہر قسم کا کام ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ایرانی وفد کے سربراہ موساویان نے جنہوں نے یہ ایران کے پر امن پروگرام کے بارے میں عالمی ادارے کو یقینی دہانیاں کرانے کی پیشکش کی ہے، بی بی سی کو بتایا کہ ایرانی پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کا نصب العین کبھی تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک کو اس پیشکش سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کے بورڈ آف گورنرز ایران کے معاملے پر ایک سفارتی نزع میں مبتلا ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کا مطالبہ ہے کہ ایران یورینیم کو افزدہ کرنے کا پرواگرام بند کرے۔ ان ممالک کو خطرہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہو سکتا ہے۔ تاہم بورڈ کے دیگر اراکین امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے خدشات اور تشویش سے متفق نہیں ہیں اور ایران کہہ رہا ہے کہ پر امن مقاصد کے لیئے یورنیم کو افزودہ کرنا اس کا حق ہے۔ بورڈ اس پر ہفتے کے دن فیصلہ کرے گا۔ قرارداد منظور ہونے کی صورت میں ایران پر لازم ہوگا کہ وہ بورڈ کی شرائط کو قبول کرے ورنہ اس کا معاملہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کیا جاسکتا ہے اور اس پر مختلف طرح کی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||