بدکاری کو جرم قرار دینےکی شق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی میں حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ حکومت نے بدکاری کو جرم قرار دینےکے منصوبے کو واپس لے لیا ہے اور اس تجویز کو اصلاحات کے پیکج سے نکال لیا ہے۔ یہ مجوزہ اقدام ان قوانین میں تبدیلیوں کا حصہ تھے جن کا مقصد انہیں یوروپی یونین کے رکن ممالک کے نزدیک لانا تھا۔ اس فیصلے کی خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے شدید نکتہ چینی کی ہے ۔یہخبر اس وقت آئی جب جب حکومت اور حزبِ اختلاف کی جماعتیں پارلیمان میں قانونی اصلاحات پر بحث کر رہی تھیں۔ انقرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہےکہ یوروپی یونین کے اعتراض کی وجہ سے ملک میں اس طرح کھلے عام کسی قانونی اصلاح کے اقدام کو واپس لیا گیا ہو۔ ان اقدامات کے پیکیج پر تین سے چار دنوں میں ووٹنگ ہوگی۔ کئی اصلاحات کا یوروپی یونین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے حیر مقدم کیا ہے ۔جن میں انسانی اسمگلنگ کرنے والوں پر سخت جرمانہ عائد کرنے کی بات ہے۔ لیکن بدکاری کو جرم قرار دینے سے متعلق شق پر عورتوں کے حقوق کی تنظیموں اور آزاد تبصرہ نگاروں نے ناراضگی ظاہر کی اور پارلیمان کے باہر مظاہرہ کیا۔ عورتوں کے حقوق کی تنظیم کی ایک رکن سینال سرہان کا کہنا تھا کہ یہ ایک پسماندہ سوچ ہے اور اس سے حکومت کو ہماری ذاتی زندگیوں میں مداخلت کرنے کا موقع ملیگا۔ وزیر اعظم طیب اردگان نے اس بارے میں کہا تھا کہ اس شق سے خواتین کو دھوکے سے بچانے میں مدد ملے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||