اسرائیلی میزائیل حملے میں تین ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے ایک میزائیل حملے میں کم از کم تین فلسطینی شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔ فلسطینی شہر جنین میں یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب تینوں شدت پسند ایک کار میں سفر کر رہے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں شدت پسند تنظیم الا قصیٰ بریگیڈ کے سینئیر ممبرمحمود خلیفہ بھی شامل تھے۔ محمود خلیفہ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ مقامی الا قصیٰ بریگیڈ کے مقامی رہنماء ذکریا زبیدی کے قریبی ساتھی تھے۔ ہلاک ہونے والے دوسرے دو فلسطینیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں ایک امجد حسنی اور دوسرے یمن ابو الحسن تھے۔ ذکریا زبیدی نے کہا: ’ہم اس حملے کو خاموشی سے برداشت نہیں کریں گے اور اس کا جواب تل ابیب میں دیں گے‘۔ عینی شاہدوں کا خیال ہے کہ میزائیل بغیر پائلٹ والے طیارے سے فائر کیا گیا۔اسرائیل نے اس طرح کے حملوں میں پہلے بھی کئی فلسطینی شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔ دریں اثناء اسرائیلی وزیر خزانہ نیتن یاہو نے مطالبہ کیا ہے کہ غرب اردن کے علاقے سے یہودی بستیوں کو ختم کرنے کے معاملے پر ریفرینڈم کرایا جانا چاہیے۔ نیتن یاہو جو سابق اسرائیلی وزیر اعظم ہیں، لکود پارٹی میں وزیراعظم ایرئیل شیرون کے حریف سمجھے جاتے ہیں۔نیتن یاہو نے کہا کہ ریفرینڈم سے لوگوں کی رائے پتہ کرنے میں مدد ملے گی۔ ادھراسرائیلی پولیس نے مشرقی یروشلم میں فلسطینی الیکشن کمیشن کے کئی دفاتر کو بند کر دیا ہے ۔ فلسطینی انتظامیہ نے یہ دفاتر اگلے سال فلسطینی الیکشن کی تیاری کے لیے قائم کیے تھے۔ پولیس نے فلسطینی الیکشن کمشن کے اہلکارووں کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ اسرائیلی پولیسں فلسطینی الیکشن کمشن کو بند کرنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان دفاتر میں غیر قانونی کارووائیاں کی جارہی تھیں ۔ اسرائیلی پولیس نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے دفاتر کو بند کرنے کے احکامات دفاتر کے سامنے چسپاں کر دیے گئے ہیں اور انتخابی فہرستوں کو قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||