14 سالہ بچےسمیت چار فلسطینی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی غزہ کے پناہ گزین کیمپ جبالیہ میں اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں میں جھڑپوں کے نتیجے میں چار فلسطینی ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سینکڑوں فلسطینیوں کی اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں جو ٹینکوں کی قطار اور بکتر بند گاڑیوں میں پناہ گزیں کیمپ کے محاصرے کے لیے وہاں آئے تھے۔ فلسطینیوں کی طرف سے ہلاک ہونے والوں میں ایک تیرہ سالہ بچہ جبکہ تین لڑنے والے تھے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جبالیہ کے پناہ گزیں کیمپ کے ارد گرد فوج کی تعیناتی اس لیے کی گئی ہے تاکہ شدت پسند اسرائیلی فوج پر راکٹ داغنا بند کریں۔ غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے لیے حماس تنظیم کی اس حکمتِ عملی کا جواب تلاش کرنا مشکل ہو رہا ہے جس کے تحت اسرائیل کے ان علاقوں میں جہاں عام شہری رہتے ہیں، ادھر ادھر راکٹ داغے جاتے ہیں۔ منگل کو حماس نے عہد کیا تھا کہ وہ ان چودہ رہنماؤں کے قتل کا انتقام لے گی جنہیں غزہ میں شدت پسندوں کے ایک تربیتی کیمپ میں میزائل مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ادھر اسرائیل نے پھر دھمکی دی ہے کہ وہ یاسر عرفات کو غربِ اردن سے باہر نکال دے گا۔ اسرائیل کے وزیرِ خارجہ سلوان شالوم کا کہنا ہے کہ ’ہمارے درمیان عرفات کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور یہ کہ یاسر عرفات کو ملک بدر کردینے کا امکان عملی صورت پانے کے اب اتنا قریب ہے جتنا پہلے کبھی نہیں تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||