برونائی میں پُرتعیش شادی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا بھر کے شاہی خاندان کے ارکان اور اہم سیاسی شخصیات تیل کی دولت سے مالا مال ریاست برونائی میں جمع ہو رہی ہیں جہاں اس سال ایشیا کی سب سے پُر تعیش شادی ہوگی۔ برونائی کے ولی عہد شہزادہ المتحدی جن کی عمر 30 سال ہے 17 سال کی سارہ صالح سے شادی کر رہے ہیں۔ برونائی دولت اور شان و شوکت کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔ سلطان حسن بولکیہ کا دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔ مگر ان کے چھوٹے بھائی نے مالیاتی بد انتظامی کی وجہ سے سلطنت کے اربوں ڈالر ضائع کر دیے ہیں۔ لیکن اس نقصان کو لوگ بھول جائیں گے اور ساڑھے تین لاکھ افراد دنیا بھر سے آنے والی ان چھ ہزار اہم شخصیات کا استقبال کریں گے۔ جو ان کے مستقبل کے حکمران کی شادی میں شریک ہونے کے لیے آ رہے ہیں ۔ برو نائی کے ولی عہد کی تعلیم آکسفورڈ میں ہوئی تھی۔ شادی سے متعلق ایک کتابچے میں لکھا گیا ہے کہ ولی عہد کی سترہ سالہ دلہن اپنی شان و شوکت، مثبت سوچ اور ذہانت کی وجہ سے مشہور ہیں۔ ان کے والد برونائی سے ہیں جبکہ والدہ کا تعلق سوئیزر لینڈ سے ہے۔ جاپان کے ولی عہد ناروہیٹو، بحرین کے بادشاہ حماد، سعودی عرب کے شہزادہ بندر، دیوک آف گلوسٹر، جو برطانوی ملکہ الیزبتھ کی نمائندگی کر رہے ہیں، سبھی اس شادی میں شرکت کرنے برونائی جا رہے ہیں۔ ہمسایہ ملک ملائیشیا سے نو شاہی خاندان تو اس شادی میں شریک ہوں گے ہی مگر اس کے ساتھ ساتھ انڈونیشیا، سنگاپور، فلپائین اور تھائی لینڈ کے حکمران بھی موجود ہوں گے۔ شاہی خاندان کے افراد بڑی بڑی ایک سو پانچ گاڑیوں کے جلوس کی صورت میں بارات لے کر جائیں گے۔ ڈیڑھ سو کے قریب رولز رائس جیسی گاڑیاں تو سلطان کی ذاتی ملکیت میں ہیں لہذا کم از کم گاڑیوں کا کرایہ تو ادا نہیں کرنا پڑے گا۔ البتہ سلطان کو آتش بازی کا کافی بڑا خرچہ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اس موقع پر تیل کی عالمی کمپنی شیل نے کچھ فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے لیے ساڑھے تین لاکھ ڈالر کا حصہ ڈالا ہے۔ بہر حال مبصرین کا خیال ہے کہ ماضی میں برونائی کی فضول خرچیوں کو دیکھتے ہوئے یہ خرچ قدرے کم ہے۔ اس مرتبہ مائیکل جیکسن کو اپنے فن کے مظاہرے کیلئے مدعو نہیں کیا گیا ۔ برونائی کے سلطان کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر شاہی خرچ پرمائیکل جیکسن کا شو ہوا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||