ہاکی فیڈریشن کی دوہری پریشانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان ہاکی فیڈریشن کو اس وقت دوہری پریشانی کا سامنا ہے۔ ایک جانب آسٹریلیا چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کے بارے میں تذبذب کا شکار ہے تو دوسری جانب بھارت نے پاکستان کے ساتھ آٹھ میچوں کی سیریز ملتوی کرنے کے لیے کہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہاکی سیریز کا پہلا مرحلہ پاکستان میں کھیلا جائے گا۔ پہلا ٹیسٹ 24 ستمبر کو کراچی میں دوسرا 27 ستمبر کو کوئٹہ میں تیسرا 29 ستمبر کو پشاور میں اور چوتھا ٹیسٹ یکم اکتوبر کو لاہور میں کھیلا جائے گا۔ چیمپئنز ٹرافی 4 سے 12 دسمبر تک لاہور میں کھیلی جائےگی۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری بریگیڈیئر( ریٹائرڈ) مسرت اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ آسٹریلوی حکومت نے اپنے شہریوں کو پاکستان کا سفرنہ کرنے کی ہدایت دے رکھی ہے جسے وہ منفی ہدایت سمجھتے ہیں کیونکہ اگر پاکستان غیرمحفوظ ملک ہے تو آسٹریلوی پولو ٹیم یہاں کھیلنے کیسے آگئی اور ورلڈ جونیئرسکواش چیمپئن شپ میں آسٹریلیا نے اپنی ٹیم کیسے بھیج دی؟ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری نے کہا کہ انہوں نے اس سلسلے میں دفترخارجہ کو بھی خط لکھا ہے کہ وہ آَسٹریلوی حکومت سے رابطہ کرے۔ بریگیڈیئرمسرت اللہ کا کہنا ہے کہ اولمپکس کے دوران انہوں نے آسٹریلوی ہاکی حکام سے بھی بات کی ہے اور اس سلسلے میں انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کے لئے کہا ہے ۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری کا کہنا ہے کہ یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ آسٹریلیا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دوسرا کوئی ملک بھی چیمپئنز ٹرافی میں حصہ لینے سے انکار کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن ہرممکن کوشش کرسکتی ہے کہ اولمپک چیمپئن ٹیم چیمپئنز ٹرافی میں حصہ لےجو دنیائے ہاکی کا اہم ترین ٹورنامنٹ ہے۔ بریگیڈیئر مسرت اللہ نے کہا کہ بھارتی ہاکی فیڈریشن پاکستان بھارت ہاکی سیریز ملتوی کرنے کے حق میں ہے لیکن پاکستان ہاکی فیڈریشن نے اس پر یہ بات واضح کردی ہے کہ اگر یہ سیریز ملتوی ہوتی ہے تو پھر اس کے بارے میں نہ سوچا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ہاکی فیڈریشن کو اپنی ٹیم کی موجودہ مایوس کن صورتحال کے بجائے اس خطے میں ہاکی کے فروغ کے بارے میں سوچنا چاہیئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||