فرانسیسی صحافی نئے گروپ کے پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں دو فرانسیسی اخبار نویسوں کو اغوا کرنے والے گروہ نے یرغمال صحافیوں کو ایک دوسرے گروپ کے حوالے کر دیا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ یرغمالیوں کو آزاد کرنے پر تیار ہے۔ فرانس کے اخبار لی فگار کے ڈپٹی ایڈیٹر چارلس لیمبروسشینی کہتے ہیں کہ دوسرا گروپ یرغمال فرانسی صحافیوں کو رہا کرنے پر آمادہ نظر آتا ہے۔ فرانس کے وزیرِ ثقافت اور مواصلات نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ یرغمالیوں کو ایک دوسرے گروپ کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے۔ اس سے قبل فرانس کے وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ دونوں فرانسیسی صحیح سلامت ہیں۔ اغوا کاروں نے یرغمالیوں کی رہائی فرانس حکومت کے حجاب پر پابندی کے قانون کے خاتمے سے مشروط کر دی تھی۔ سنتیس سالہ کرسچین چیسناٹ جن کا تعلق ریڈیو سے ہے اور اکتالیس سالہ جیورج میلبروناٹ جن کا تعلق اخبار لی فگار سے ہے اگست کو عراق میں کام کے دوران اغوا کر لیے گئے تھے۔ بی بی سی کے نامہ نگار پال وڈ کاکہنا ہے کہ فرانس کی اپنے شہریوں کو رہا کرانے کی کوششوں کو عرب اور مسلمان دنیا میں بہت زیادہ پزیرائی حاصل ہوئی ہے جس کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ فرانس امریکہ کی سالاری میں عالمی فوج کا حصہ نہیں بنا۔ لی فگار کے ڈپٹی ایڈیٹر چارلس لیمبروسشینی کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے فرانسیسیوں کو اغوا کیا تھا وہ غیر عراقی اسلامی بنیاد پرست ہیں جنہوں نے اب صحافیوں کو دوسرے گروپ کے حوالے کر دیا ہے۔ لیمبروسشینی کا کہنا تھا کہ دونوں گروپوں کے درمیان اس مسئلے پر جھگڑا بھی ہوا ہے۔ تاہم ان کا خیال ہے کہ دنوں فرانسیسیوں کو جمعہ یا ہفتے تک رہا کر دیا جائے گا۔ فرانس نے اپنے صحافیوں کی رہائی کے لیے زبردست سفارتی کوششیں کی ہیں اور جمعرات کو یرغمالیوں کا ایک گروپ کے قبضے سے نکل کر دوسرے گروپ کے ہاتھوں میں چلا جانا جو ان کی رہائی پر آمادہ ہے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ فرانس کے اہم مسلمان رہنماؤں نے بھی مذاکرات میں شرکت کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||