’عدالت کا فیصلہ غلط ہے‘ امریکہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی محکمہ انصاف نے ایک عدالت سے کہا ہے کہ وہ تین عرب باشندوں کو دہشت گردی کے الزام میں دی گئی سزا کو ختم کر دے کیونکہ بہت ساری اہم معلومات عدالت سے چھپائی گئیں تھیں۔ امریکی محکمہ انصاف نے عدالت سے کہا ہے کہ مراکش سے تعلق رکھنے والے تین عرب باشندوں کے خلاف مقدمہ چلنا چاہیے لیکن دہشت کے الزام کے تحت نہیں۔ امریکہ میں پچھلے سال تین عرب باشندوں پر دہشت گردی کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا تھا اور عدالت کےطرف عربوں باشندوں کو دہشت گردی کارروائیوں میں ملوث قرار دیئے جانے کے فیصلے کا بہت پرچرچا کیا گیا تھا۔ امریکی اٹارنی جنرل جان ایشکرافٹ نے اس مقدمے کےفیصلے کے بعد کہا تھا کہ عدالت کا فیصلہ امریکہ میں دہشت گردی کرنے والوں کے لیے ایک سبق ہو گا۔ امریکی محکمہ انصاف نے عدالت کو بتایا تھا کہ استغاثہ نے مقدمے کے دوران شدید غلطیاں کی تھیں اور کئی اہم معلومات وکیلوں سے چھپائیں جو مقدمہ کے فیصلے پر اثر انداز ہوئیں۔ امریکہ محکمہ انصاف نے عدالت سے کہا ہے کہ تین عرب باشندوں پر جن کا تعلق مراکش سے ہے، دوبارہ مقدمہ چلنا چاہیے لیکن الزامات میں دہشت گردی کا جرم شامل نہیں ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||