’جنین جنین‘ پر پابندی ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل میں عدالتِ عالیہ نے غربِ اردن کے ایک پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی حملے کے بارے میں دستاویزی فلم ’جنین جنین ‘ کی نمائش پر پابندی پابندی اٹھانے کا حکم دیا ہے۔ اسرائیل کے فلمی بورڈ نے فلم جنین کو دکھائے جانے پر یہ کہتے ہوئے گزشتہ برس پابندی عائد کر دی تھی کہ اس میں جنین میں ہونے والے واقعات کو مسخ کر کے دکھایا گیا ہے۔ لیکن پیر کو اسرائیل کے ہائی کورٹ نے یہ کہتے ہوئے کہ حقیقتوں پر فلمی بورڈ کی اجارہ داری نہیں ہے،فلم کی نمائش پر لگی پابندی کو کالعدم کر دیا۔ جنین کے پناہ گزین کیمپ میں اپریل دو ہزار دو میں باون فلسطینی اور تئیس اسرائیلی ہلاک ہوگئے تھے۔ جنین میں آٹھ روز تک جاری رہنے والی یہ فوجی کارروائی اسرائیلی شہر نطنیہ میں اس خود کش دھماکے کے بعد عمل میں آئی تھی جس میں اٹھائیس اسرائیلی ہلاک ہوگئے تھے۔ اس فلم کے ہدایتکار ایک اسرائیلی عرب فلمساز محمد بقری ہیں فلم جنین جنین گزشتہ سال اسرائیل میں تین مرتبہ دکھائی گئی۔ تاہم بعد میں فلم کی نمائش ممنوع قرار دے دی گئی۔ عدالتِ عالیہ کے مطابق فلمی بورڈ نے پابندی لگانے میں اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے۔ فلم کے ہدایتکار کا اصرار تھا کہ انہیں لوگوں کو اسرائیلی نقطۂ نظر دکھانے کا پورا حق ہے۔ انہوں نے عدالت کی یہ تجویز بھی منظور نہیں کی تھی کہ فلم کے کئی سین کاٹ دیئے جائیں۔ اگرچہ عدالت نے فلم پر لگی پابندی اٹھا دی ہے لیکن کہا ہے کہ یہ فلم ’پروپیگنیڈے کے لیے استعمال کیا جانے والا جھوٹ‘ ہے جس میں غلط طور پر اسرائیلی فوجیوں کو بچوں، معذوروں، ذہنی طور پر بیماروں اور عورتوں کو قتل کرتے دکھایا گیا ہے۔ تاہم عدالت کا کہنا تھا کہ فلم میں جھوٹ ہونا اس بات کا کافی جواز فراہم نہیں کرتا کہ فلم پر پابندی لگا دی جائے۔ گزشتہ پندرہ برس میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اسرائیل میں کسی فلم پرپابندی لگائی گئی ہو۔ انیس سو ستاسی میں اسرائیل میں جاپانی فلم ’ایمپائر آف دی سینسز‘ کو عریانیت کے باعث نمائش سے ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||