BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 August, 2004, 01:08 GMT 06:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دو روسی طیارے تباہ، 89 افراد ہلاک
دوسرا طیارہ ایئرلائنز کمپنی ’سیبیر‘ کی ملکیت میں ہے
دوسرا طیارہ ایئرلائنز کمپنی ’سیبیر‘ کی ملکیت میں ہے
روس میں دو مسافر بردار طیارے دو منٹ کے اندر گرکر تباہ ہوگئے ہیں۔ خدشہ ہے طیاروں پر سوار چوراسی سے زائد مسافروں میں سے کوئی بھی نہیں بچا۔

ان طیاروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنائے جانے کے بارے میں کوئی شہادت ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔

ماہرین حیران ہیں کہ ’دو غیرمنسلک حادثے ایک ہی دن ایک ہی ملک میں ہوں۔‘

دونوں حادثے ایسے وقت ہوئے ہیں جب چیچنیا میں اتوار کو منعقد ہونیوالے صدارتی انتخابات کے پیش نظر روس میں سیکیورٹی کے خدشات ہیں۔

روس میں دو مسافر بردار طیارے گرکر تباہ ہوگئے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ دونوں طیاروں پر سوار اننانوے مسافر ہلاک ہو گئے ہیں۔

پہلا طیارہ جس پر بیالیس افراد سفر کررہے تھے دارالحکومت ماسکو کے جنوب میں تولا کے علاقے میں گرکر تباہ ہوگیا۔ جبکہ دوسرے طیارے کا جس پر چوالیس مسافر سوار تھے ہائی جیک ہونے کا الارم بجانے کے بعد ایئر ٹریفک کنٹرول کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

صدر ولادمیر پوتین نے روسی سیکیورٹی سروسز ایف ایس بی کو تحقیقات کا حکم دیا اور ایسا حکم اسی وقت دیا جاتا ہے جب مشتبہ حالات میں کوئی حادثہ ہو۔

اطلاعات کے مطابق روس کے ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے اور حکام اس بات سے انکار نہیں کررہے ہیں کہ ہوسکتا ہو کہ یہ دہشت گرد حملہ ہو۔

روسی خبررساں ادارے ایتار تاس ایجنسی کے مطابق تولا کے علاقے میں عینی شاہدین نے پہلے طیارے کو فضا میں پھٹتے ہوئے دیکھا۔ لیکن یہ بتانا ابھی مشکل ہے کہ اس حادثے میں کوئی بچا ہے یا نہیں۔

دوسرا طیارہ ماسکو سے بلیک سی یعنی بحر اسود میں سوچی کے مقام تک جارہا تھا لیکن اس کا رابطہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے منقطع ہوگیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ طیارہ بھی گرکر تباہ ہوگیا ہے۔ یہاں اس بات کی نشاندہی کرنا ضروری ہے کہ روسی صدر ولادمیر پوتین اس وقت سوچی میں چھٹیاں منا رہے ہیں۔

دونوں طیارے مختلف کمپنیوں کی ملکیت میں ہیں۔ روسی ایئرلائنز کمپنی ’سیبیر‘ کا کہنا ہے کہ دوسرا طیارہ اس کی ملکیت میں ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد