مقتدیٰ الصدر کا ساتھی گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی پولیس نے مقتدیٰ الاصدر کے ایک قریبی ساتھی علی سمیسم کو ان کے حامیوں سمیت نجف میں ان کے دفتر سے گرفتار کرلیا ہے۔ یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ ان کے دفتر سے حضرت علی کے روضے کے نودرات بھی ملے ہیں۔ پولیس کا یہ بھی کہا ہے کہ انہیں کچھ جعلی دستاویزات بھی ملے ہیں جن میں سے کچھ فارسی میں ہیں۔ اس کے علاوہ پولیس کو ان کے دفتر سے ڈالر بھی ملے ہیں جن کی تعداد نہیں بتائی گئی۔ حضرت علی کے روضے میں موجود تجوری میں پوری دنیا سے بھیجے گئے انمول تحفے رکھے جاتے ہیں۔ مقتدی الصدر کے حامیوں کا حضرت علی کے روضہ کے ارگرد کے علاقے پر اب بھی قبضہ ہے اور مقتدی الصدر کے حامی ملیشیا کے ساتھ لڑائی جاری ہے اور غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق امریکی فوجوں نے حضرت علی کے روضہ کے گرد اپنا کنٹرول مضبوط بنا لیا ہے۔ اس سے پہلے عراق میں شیعہ فرقے کے روحانی پیشواآیت اللہ سیستانی لندن میں دل کے علاج کے بعد واپس عراق پہنچ گئے ہیں آیت اللہ سیستانی نے اپنے حامیوں کو ایک پیغام میں کہا ہے کہ نجف کے مقدس شہر کو بچانے کے لیے وہ نجف تک مارچ کرنے کے تیار ہو جائیں۔ آیت اللہ سیستانی نے کویت جہاز میں سفر کرنے کے بعد وہاں گاڑیوں کے ایک بڑے قافلے کے ساتھ عراق کی سرحد پار کر گئے ہیں۔ آیت اللہ سیستانی لندن میں دل کے علاج کی غرض سے آئے تھے جہاں ان کا بائی پاس آپریشن ہوا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||