’جہادی‘ میگزین انٹرنیٹ پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ میگزین انٹرنیٹ پر شائع کیا گیا ہے جس کی مخاطب مسلمان عورتیں ہیں۔ اس رسالے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ عورتیں خانہ داری کے ساتھ ساتھ جہاد کیسے کر سکتی ہیں۔ رسالہ اسلام کے ابتدائی زمانے کی ایک عرب شاعرہ ’الخنساء‘ کے نام سے منسوب ہے جنہوں نے رزمیہ نظموں میں جنگ میں مرنے والے اپنے رشتہ داروں کے کارناموں کو سراہا تھا۔ یہ پہلا جہادی میگزین ہے جو خالصتاً عورتوں کو مخاطب کرتا ہے۔ میگزین کا دعوی ہے کہ سعودی عرب میں القاعدہ کے رہنما عبدالعزیز المقرینی اس کے بانیوں میں سے تھے۔المقرینی سعودی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہوگئے تھے۔ بظاہر الخنساء کے ایک اور انٹرنیٹ میگزین ’صور الجہاد‘ سے بھی روابط ہیں۔ جہاد پر مائل کرنے والا ایک پیغام کچھ اس طرح ہے: ’ہمارے خاندوں کا خون اور ہمارے بچوں کے جسموں کے ٹکڑے ہماری قربانیاں ہیں۔‘ مبصرین کے مطابق رسالے کا مقصد ریڈیکل مسلمان مردوں کی بیویوں کو یہ بتانا ہے کہ وہ حکومت سے برسرپیکار اپنے شوہروں کی مدد کس طرح کرسکتی ہیں۔ میگزین یہ بھی بتاتا ہے کہ مسلمان عورتوں جہاد کے راستے میں اپنے بچوں کی تربیت کیسے کریں۔ اس کے علاوہ ابتدائی طبی امداد کے بارے میں مضامین بھی رسالے میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عورتوں کو لڑنے کے لیے خود کو تیار کرنے میں کس طرح کی جسمانی تربیت درکار ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ تمام مضامین عورتوں ہی نے لکھے ہیں تاہم وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||