سومالی ٹرک ڈرائیور کی کہانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سومالیہ سے تعلق رکھنے والے ٹرک ڈرائیور جس کو عراق میں اغواء کر لیا گیا تھا رہائی پانے کے بعد کویت پہنچنے پر اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے اغواء کنندگان نے کہا ہے کہ تمہارا نام پورے عراق میں پھیلا دیا گیا ہے اور اگر تمہیں دوبارہ عراق میں دیکھا گیا تو تمہیں فوراً گولی ماردی جائے گی۔ سومالیہ کے ٹرک ڈرائیور علی احمد موسی کو چوبیس جولائی کو بغداد سے دو سو کلو میٹر دور اغواء کر لیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا ان کو یرغمال بنانے کے بعد ایک عدالت کے سامنے پیش کیا گیا جس نے انہیں موت کی سزا سنا دی گئی لیکن اس کے بعد ان کے اغواء کنندگان نے ان سے بہت اچھا سلوک کیا اور انہیں اچھی خوراک مہیا کرتے رہے۔ عراقی کی شدت پسند تنظیم توحید والجہاد نے اعلان کیا تھا کہ اگر علی موسی کی کمپنی نے عراق میں اپنا کاروبار بند نہ کیا تو انہیں ہلاک کر دیا جائے گا۔ موسی کو سومالیہ ، ایرٹریا اور جبوتی کی حکومت کی طرف سے کی گئی اپیلوں کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔ موسی نے بتایا کہ وہ ٹرکوں کے ایک قافلے کے ساتھ بغداد جا رہے تھے اور ان کا ٹرک سب سے پیچھے تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک گاڑی سے ان کا راستہ روکا دیا گیا اور چند مسلح افراد نے انہیں اغواء کر لیا۔ موسی کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی اور گاڑی کی ڈکی میں بند کرکے ایک نامعلوم مقام پر لیے جایا گیا۔ موسی نے بتایا کہ جس کمرہ عدالت میں انہیں پیش کیا گیا وہ لوگوں سے بھرا ہوا تھا اور اس میں ایک لمبی داڑھی والا شخص جج کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ عدالت نے انہیں امریکی فوج کی معاونت کرنے کے جرم میں موت کی سزا سنادی۔ موسی نے کہا کہ انہیں دشمنوں کا ساتھی تصور کیا جاتا رہا اور اغواء کاروں نے انہیں اپنے ساتھ نماز اور کھانے میں شریک نہیں کیا۔ موسی نے بتایا کہ وہ سب عراقی تھے اور امریکی قبضے کے خلاف غصے میں تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||