BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 August, 2004, 14:30 GMT 19:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہمارے بغیر نیو یارک مفلوج: ٹیکسی ڈرائیور
ٹیکسی ڈرائیور
نیویارک میں زیادہ تر ٹیکسی ڈرائیور ایشیائی ہیں
ٹیکسی ڈرائیور دنیا کے بڑے شہروں کو سب سے زیادہ بہتر طور پر جانتے ہیں۔ بی بی سی نے دنیا کے مختلف شہروں میں پانچ ٹیکسی ڈرائیوروں سے ان کے کام، شہر اور ان کے مسائل کے بارے میں بات چیت کی ہے۔

بی بی سی کے میٹ ویلز نے نیویارک میں ایک ایشیائی نژاد ٹیکسی ڈرائیور نریندر دیول سے بات چیت کی۔

سب سے پہلی چیز جو نریندر نے مجھے دکھائی وہ گاڑی کا شناخت نمبر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر یہ نمبر سامنے نظر نہ آرہا ہو تو آپ پیلی ٹیکسی نہیں چلا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر پولیسں آپ کو اس کے بغیر گاڑی چلاتے ہوئے پکڑ لے، چاہے یہ آپ کی جیب میں ہی کیوں نہ ہو وہ ضرور آپ کو جرمانہ کرتے ہیں۔‘

نریندر انیس سو اکاسی سے امریکہ میں ہے اور اس کا تعلق شمالی بھارت سے ہے۔

نریندر نے بتایا کہ ٹیکسی چلانے میں خاص کشش اجرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اس کام میں کم از کم آپ روزی کما رہے ہوتے ہیں اور آپ اپنے بل ادا کر سکتے ہیں‘۔

نریندر ایک سکھ ہے اور ٹیکسی چلاتے ہوئے اپنی روایتی پگڑی پہنے ہوتا ہے اور اس کی لمبی داڑھی ہوا میں اڑ رہی ہوتی ہے۔

ٹیکسی
پیلی ٹیکسی نیویارک کی شناخت کا حصہ ہیں

لیکن ستمبر گیارہ کے واقعات کے بعد ا سکے ایشیائی نسل سے تعلق رکھنے کی وجہ سے نیویارک کے باشندوں نے اپنے غصہ کے اظہار کےلیے سکھوں پر بھی حملے کیے۔ انہوں نے کہا کہ ’میرے ساتھ تیں دفعہ ہوا۔ لوگوں نے میرے اوپر حملے کیے، مجھے برا بھلا کہا اور واپس اپنے ملک جانے کو کہا۔ آپ کو ایسے وقت میں اپنے غصہ پر قابو رکھنا پڑتا ہے اور پھر انہیں بتانا ہوتا ہے کہ آپ ان میں سے نہیں ہیں۔ ہم نے ٹی وی اور ریڈیو پر آکر لوگوں کو بتایا کہ ہم مسلمان نہیں اور سکھ ہیں‘۔

دوپہر کو نریندر نے مینہیٹن کے وسط میں ایک بھارتی ریسٹورانٹ ’انڈیا ہاؤس‘ پر کھانا کھایا جسے ایک سکھ گوریندر سنگھ چلا رہا ہے جو پہلے ٹیکسی ڈرائیور تھا۔

گوریندر نے کہا کہ اسے ایشیائی ٹیکسی ڈرائیوروں پر فخر ہے اس لیے کہ ان ٹیکسیوں کے بغیر نیویارک شہر بالکل مفلوج ہو کر رہ جاتا۔بھارتی، پاکستانی اور بنگلہ دیشی ٹیکسی ڈرائیور اس شہر کو چلاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’میں ان ڈرائیوروں کے لیے اچھے کھانا مہیا کرتا ہوں۔

نریندر پورا ہفتہ ہی کام کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’مجھے تیار ہونے کے لیے صبع تقریباٰ تین چار بجے اٹھنا پڑتا ہے‘۔

سہہ پہر کے بعد نریندر ٹیکسی مالک جوندر سنگھ رائے کے حوالے کردیتا ہے جو اسے رات میں چلاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیویارک میں ٹیکسی چلانا ایک مشکل کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’کئی دفعہ لوگ آپ کو پیسے دینا نہیں چاہتے۔ یہ ایک مسئلہ ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ ایسے موقعوں پر پولیس کو بلانے کا فائدہ نہیں ہوتا اس لیے کہ وہ وقت پر نہیں پہنچتے‘۔

نریندر خوش ہے کہ اس کی شفٹ کا وقت ختم ہونے کو ہے۔انہوں نے کہا کہ ’یہاں پر کام نہیں ہیں۔ آج بہت سست دن تھا۔ مگر کل صبع پھر میں یہاں پر ہونگا یہی کچھ پھر سے کرنے کے لیے‘۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد