کشمیر:خودکش حملہ، سات ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں فوجی کیمپ پر فدائی حملے میں بھارتی سکیورٹی فورسز کے پانچ اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دونوں فدائی حملہ آور بھی ہلاک ہو گئے ہیں ۔ قل مرنے والوں کی تعداد سات ہے ۔ کئی پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ المنصورین نامی ایک عسکریت پسند تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے تین کارکنوں نے سی آر پی ایف کی ایک کمپنی کے مرکزی کیمپ پر فدائی حملہ کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق حملہ تقریباً سات گھنٹے تک جاری رہا۔ یہ کیمپ کشمیر کی مشہور ڈل جھیل کے پاس ہے جہاں سیاحوں کی بڑی تعداد بھی آتی ہے۔ سر ی نگر میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس میں عسکریت پسندوں نے کسی فوجی کیمپ پر اس طرح حملہ کیا ہو۔ سری نگر میں بی بی سی کے نامہ نگار الطاف حسین کے مطابق ساری رات فائرنگ کی آواز سنائی دیتی رہی اور صبح کے پہلے پہر میں فائرنگ بند ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق عسکریت پسندوں کے ہاتھ ہلاک ہونے والوں میں سی آر پی ایف کے ایک سب انسپیکٹر، ایک ہیڈ کانسٹیبل اور تین کانسٹیبل شامل ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور ہاؤسبوٹوں اور ہوٹلوں کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ مقامی پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ اب تک حملہ آوروں کی شناخت نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں مقیم تمام سیاح محفوظ ہیں۔ حال ہی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی امن بات چیت کی وجہ سے کشمیر میں سیاحت میں اضافہ ہوا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس حملے سے سیاحت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||