میڈرِڈ: ’شدت پسند اب بھی سرگرم‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میڈرڈ میں ہونیوالے ٹرین بم دھماکوں کی تفتیش کرنیوالے ایک ہسپانوی جج نے کہا ہے کہ اب بھی شدت پسند سیل سرگرم ہیں جو پھر سے حملہ کرسکتے ہیں۔ جج جوان ڈیل اولمو نے میڈرڈ دھماکوں کی تفتیش کرنے والے پارلیمانی کمیشن کو ایک خط میں لکھا ہے کہ شدت پسندوں کا مرکزی سیل تو ختم ہوگیا ہے لیکن کچھ لوگ اب بھی سرگرم ہیں۔ جج کے مطابق کچھ افراد جنہوں نے میڈرِڈ دھماکوں کے حملہ آوروں کی مدد کی تھی، اب تک نہیں پکڑے جاسکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ دوبارہ سرگرم ہوسکتے ہیں۔ گزشتہ گیارہ مارچ کو میڈرڈ کی ٹرینوں میں ہونیوالے بم دھماکوں میں ایک سو اکیانوے لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔ جج جوان ڈیل اولمو نے ان بم دھماکوں کی تحقیقات کے دوران درجنوں افراد سے پوچھ گچھ کی۔ انہوں نے بیس لوگوں کے خلاف مقدمے بھی دائر کیے ہیں اور ان میں سے بیشتر جیل میں ہیں۔ میڈرڈ دھماکوں کے چند ہفتوں بعد ہی سات مشتبہ افراد ایک فلیٹ پر پولیس کی کارروائی کے دوران ایک دھماکے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ تحقیقاتی جج کا کہنا ہے کہ میڈرِڈ دھماکوں کی پلانِنگ چند ماہ کے دوران کی گئی تھی۔ ہسپانوی پارلیمانی کمیشن اس بات کی تحقیقات کررہا ہے کہ کیا ان حملوں کو روکنے کے لئے کچھ کیا جاسکتا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||