BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 July, 2004, 14:36 GMT 19:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یروشلم تک کا سفر
یروشلم تک کا سفر
ہبرون کی طرف جاتے ہوئے
عام فلسطینیوں کے لیے غرب اردن میں سفر کرنا آسان نہیں ہے۔ قدم قدم پر بنے اسرائیلی فوجی ناکے سفر کو نہایت ہی مشکل اور کبھی کبھی ناممکن بنا دیتے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے پاس خودکش بمباروں کو اسرائیلی شہروں تک پہنچنے سے روکنے کا اور کوئی طریقہ نہیں ہے۔

بی بی سی نےمشرق وسطیٰ کے امور سے متعلق اپنے دو نامہ نگاروں کو یہ دیکھنے کے لیے وہاں بھیجا کہ لوگوں کے لیے ایک سے دوسری جگہ پہنچنا کتنا مشکل ہے۔

دونوں نامہ نگاروں نے اپنا سفر مقررہ وقت پر ایک ساتھ شروع کیا۔ میتھیو پرائس نے غرب اردن کے شمال سے اور جیمز رینلڈز نے جنوب سے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ دونوں کا مقصد یروشلم کے پرانے شہر میں مقیم ایک کیفے تک پہنچنا تھا۔

ان کا سفر کچھ اس طرح گزرا :

1115:میتھیو پرائس:
ہمارا سفر یروشلم سے چالیس میل دور شروع ہوا۔ جس سڑک پر ہم نے سفر شروع کیا اس کے مشرق اور مغرب کی طرف اسرائیلیوں کے لیے بنی سڑک ہے جس پر سفر کر کے ہم یہاں پہنچے تھے۔ مگر فلسطینیوں کو اس سڑک پر سفر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یروشلم تک کا سفر ہم فلسطینیوں کی کچی سڑک پر طے کریں گے۔ ہماری ٹیکسی کے ڈرائیور امین کا کہنا ہے کہ اس سڑک سے یروشلم تک کا سفر بہت لمبا ہو جائےگا۔

1115: جیمز رینلڈز:
ہمارا سفر فلسطین کے شہر ظاہریا سے شروع ہوا۔ ہماری ٹیکسی کے ڈرائیور عصر کا خیال ہے کہ یروشلم پہنچنے میں ہمیں تقریباً چھ گھنٹے لگ جائیں گے۔ ہمارا اندازہ ہے کہ ہم تین گھنٹے میں وہاں پہنچ جائیں گے۔ عصر عام طور گاڑی میں سواریاں پوری ہونے کے بعد ہی سفر شروع کرتا ہے۔ مگر ہم جلدی میں ہیں اور اسے سفر شروع کرنے پر راضی کر لیتے ہیں۔

1125: جیمز رینالڈس:
ہم دھاہریا سے نکلے اور عصر نے فلسطینیی شہر ہبرون کی طرف جانے والی ایک کچی سڑک پکڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس راستے پر عام طور پر اسرائیلی فوجی ناکے نہیں ہوتے۔ اس کچی سڑک کے دونوں طرف چرواہے اور زیتون کے درخت تھے۔

1145: جیمز رینلڈز:
ہبرون کی طرف جاتے ہوئے ہمیں سڑک کے کنارے ٹیکسی کا انتظار کرتا ہوا ایک نوجوان جوڑا نظر آیا۔ ہماری ٹیکسی میں کافی جگہ خالی تھی اس لیے ہم نے انہیں اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ ان کے ہاں بچہ نہیں تھا اور اسی سلسلے میں وہ اپنے ڈاکٹر سے ملنے جا رہے تھے۔

وہ عصر کی گاڑی میں چپ چاپ بیٹھے رہے۔

1205: میتھیو پرائس:
اب تک ہم نے کوئی خاص فاصلہ طے نہیں کیا ہے۔ امین جس راستے سے ہمیں لے گیا تھا وہ راستہ بند تھا۔ پھر ہم ایک دوراہے پر پہنچے مگر بائیں طرف جانے کی جگہ امین دائیں طرف مڑ گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اگرچہ بائیں طرف والا راستہ ہمارے لیے زیادہ مفید تھا فلسطینیوں کو اس پر سفر کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ مگر اب ہم ایک اسرائیلی سڑک پر تھے اور اگر پکڑے جاتے تو امین کی گاڑی ضبط کر لی جاتی۔

کچھ میل چلنے کے بعد امین پھر ایک کچی سڑک پر مڑ گیا۔ 27 کلومیٹر سفر کرنے کے بعد ہم ابتدائی مقام سے صرف دو کیلومیٹر دور تھے۔

یروشلم کا سفر
دونوں نامہ نگاروں کے سفر کا نقشہ

1210: جیمز رینلڈز:
ہم ہبرون پہنچ گئے اور وہاں گاڑیاں معمول کے مطابق چل رہی تھیں۔ عصر کا کہنا تھا کہ فوج نے کئی ناکے ہٹا دیئے ہیں جس سے سفر کچھ حد تک آسان ہو گیا ہے۔ ہمارے ساتھ سفر کرنے والا نوجوان جوڑا ہبرون میں اتر گیا۔

1220: جیمز رینلڈز:
ہم ہبرون کو پیچھے چھوڑ کر ایک بڑی سڑک پر مقیم اسرائیلی واچ ٹاور کے قریب پہنچ گئے۔ ہم نے ایک فوجی جیپ دیکھی مگر اب تک ہم نے فوجیوں کو نہیں دیکھا۔ اس سڑک پر پیلے نمبر پلیٹوں والی اسرائیلی گاڑیاں شمال کی طرف جا رہی تھیں۔ مگر ہم اس سڑک پر سفر نہیں کر سکتے کیونکہ ہماری گاڑی پر ہرا فلسطینی نمبر پلیٹ لگا ہوا ہے۔

ہم چھوٹی سڑکوں کے ذرئعے بیت اللحم پہنچنے کی کوشش میں مشرق کی طرف مڑ گئے۔ عصر تمام گاڑیوں کو روک کر ان سے سڑک کی حفاظت کے بارے میں پوچھتا رہا۔

1230: میتھیو پرائس:
کچی سڑکوں پر سفر کرنا آسان نہیں ہے۔ گرمی بھی بہت ہے اور سڑک میں گڑھے بھی۔ اسرائیل کی عام شاہراہیں یقیناً ان سڑکوں سے بہت بہتر ہیں۔

غرب اردن کا یہ سفر خوبصورت تو ہے مگر یہاں سے یروشلم تک کا سفر بہت طویل معلوم ہوتا ہے۔

1305 : جیمز رینلڈز:
یروشلم کے میناروں اور عمارتوں کی پہلی جھلک دیکھ کر ہماری ٹیکسی میں خوشی کی لہر دوڈ گئی۔

1305: میتھیو پرائس:
اب ہم ایک بہتر سڑک پر ہیں۔ ہم فلسطینی شہر رام للہ کی طرف جا رہے ہیں۔ اب تک ہم نے کوئی فوجی ناکہ نہیں دیکھا مگر کئی بار اسرائیلی فوج کسی کو خبر کیے بغیر سڑکوں پر عارضی چیک پوائنٹ بنا دیتی ہے۔ اس وجہ سے کوئی نہیں جانتا کہ ان کا سفر کتنا لمبا ہوگا۔

1315: جیمز رینلڈز:
ہم بیت اللحم کے پاس ایک اسرائیلی چیک پوائنٹ پر پہنچے جہاں گاڑیوں کی تلاشی کی جا رہی ہے۔ ہماری گاڑی چھٹے نمبر پر ہے۔ یہودی بستیوں کے رہنے والے کچھ افراد ایک سفید گاڑی میں بنا رکے آگے نکل گئے۔

ہمارا نمبر آنے پر فوجیوں نے ہمیں جانے کی اجازت دے دی۔

1350: میتھیو پرائس:
ہم رام اللہ کے قریب ایک چیک پوائنٹ پر ہیں۔ یروشلم کے قریب ہوتے ہوئے بھی وہاں سے بہت دور۔ اس ناکے پر رام اللہ سے یروشلم جانے والے ہر شخص کی تلاشی کی جاتی ہے۔

میری بات ایک شخص سے ہوئی جسےانتظار کرتے ہوئے آدھا گھنٹہ ہو گیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ کئی بار تین چار گھنٹے بھی لگ جاتے ہیں اور اس وجہ سے لوگ اپنی مصروفیات کے بارے میں کبھی کوئی منصوبہ نہیں بنا پاتے۔

جن فلسطینیوں کے پاس صحیح شناختی دستاویز نہ ہوں انہیں یروشلم جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ یہ سب کچھ خودکش بمباروں کو روکنے کے لیے کر رہا ہے مگر فلسطینیوں کا خیال ہے کہ انہیں دوسروں کے گناہوں کی سزا دی جا رہی ہے۔

1350: جیمز رینلڈز:
ہم بیت اللحم - یروشلم کے مرکزی چیک پوائنٹ پر ہیں۔ عصر اس سے آگے ہمارے ساتھ نہیں آ سکتا کیونکہ اکثر فلستینیوں کی طرح اسے یروشلم میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔

مگر وہ یہ سوچ کر خوش ہے کہ ہمارا سفر جلدی مکمل ہو گیا۔

1400: جیمز رینلڈز:
ہم نے چیک پوئنٹ پیدل پار کیا اور ایک اسرائیلی ٹیکسی میں سوار ہو گئے۔ دو گھنٹے تک کچی سڑکوں پر سفر کرنے کے بعد اسرائیل کی پکی، سیدھی سڑکوں پر سفر عجیب سا لگا۔

1410: میتھیو پرائس:
ہم اس سفر کے آخری چیک پوائنٹ پر پہنچ گئے جہاں فوجیوں نے ہمارے شناختی کارڈ دیکھ کر ہمیں آگے جانے کی اجازت دے دی۔

اس میں تھوڑا وقت تو لگا مگر کوئی خاص مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

1435: جیمز رینلڈز:
ہم مقررہ مقام پر پہنچ گئے ہیں اور یہ سوچ کر خوش ہیں کہ ہمیں چھ گھنٹے نہیں لگے۔

1450: میتھیو پرائس:
آخر کار ہم یروشلم کے پرانے شہر پہنچ ہی گئے۔ اسرائیلی سڑکوں پر یہ سفر مکمل کرنے میں ہمیں تقریباً ایک گھنٹہ لگا تھا، فلسطینی سڑکوں پر یہی سفر ساڑھے تین گھنٹے میں پورا ہوا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد