BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 July, 2004, 07:46 GMT 12:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شوکت عزیزمخالف امیدوار پر اجلاس

شوکت عزیز کے مقابل امیدوار کے لیے اے آر ڈی کا اجلاس
شوکت عزیز کے مقابل امیدوار کے لیے اے آر ڈی کا اجلاس
پاکستان کے نامزد وزیراعظم شوکت عزیز کے مقابلے میں صوبہ پنجاب کے شہر اٹک کے حلقہ 59 سے متفقہ امیدوار لانے کے لیے حزب اختلاف کے اتحاد ’ اتحاد برائے بحالی جمہوریت‘ (اے آر ڈی) کا اجلاس شروع ہوگیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما راجہ ظفرالحق کے مطابق اجلاس میں ان کی کوشش ہوگی کہ حزب اختلاف متفقہ امیدوار پر راضی ہو جائے۔

شوکت عزیز کو رکن قومی اسمبلی بنانے کے لیے وزیراعظم کی بھانجی ایمان وسیم نے اٹک کے قومی اسمبلی کے حلقہ 59، جبکہ صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ کے بھانجے ارباب ذکاءاللہ نے تھرپارکر کے حلقہ 229 سے استعفیٰ دیا تھا۔

شوکت عزیز سمیت حکمران جماعت کے تین امیدواروں نے تھرپارکر سے کاغذات نامزدگی داخل کر رکھے ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے تین اور متحدہ مجلس عمل کے دو، پاکستان پیپلز پارٹی ( شہید بھٹو) کے ایک اور ایک آزاد امیدوار نے بھی کاغذات نامزدگی داخل کیے ہیں۔

تھرپارکر کی نشست سے مسلم لیگ نواز کے کسی امیدوار نے کاغذات نامزدگی داخل نہیں کیے اور اس حلقہ سے اصل مقابلہ شوکت عزیز اور پارلیمنٹیرینز کے امیدوار میں ہوگا۔ اس حلقے میں پچاس فیصد کے قریب ووٹ اقلیتوں کے ہیں اور شاید یہ ہی سبب ہے کہ پارلیمنٹیرینز نے اقلیتی امیدوار ہی نامزد کیے ہیں۔

اے آر ڈی کی دونوں بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز اور مسلم لیگ نواز کے درمیان اٹک کی نشست پر اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ مسلم لیگ کا مطالبہ ہے کہ سندھ سے پیپلز پارٹی اور پنجاب کی نشست پر مسلم لیگ کا متفقہ امیدوار ہونا چاہیے۔

اس سے پہلے لاہور میں اے آر ڈی کا اجلاس دو دن تک جاری رہا تھا لیکن متفقہ امیدوار لانے پر اتفاق نہیں ہو سکا تھا۔

اٹک سے اب تک کل سولہ امیدواروں نے کاغذات نامزدگی داخل کیے ہیں جس میں حکمران مسلم لیگ، مسلم لیگ نواز اور متحدہ مجلس عمل کے دو دو جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے تین امیدواروں نے کاغذات نامزدگی داخل کیے ہیں۔ دیگر سات امیدوار آزاد ہیں۔

دونوں حلقوں میں ضمنی انتخابات کے شیڈول کے مطابق سنیچر کی شام چار بجے تک جانچ پڑتال مکمل کی جائے گی۔ امیدواروں کے کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ بیس جولائی ہے جبکہ پولنگ اٹھارہ اگست کو ہو گی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد