مطلوب سعودی شدت پسند ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے دارالحکومت ریاض میں فائرنگ کے ایک واقع میں القاعدہ کے ایک اہم مشتبہ رکن کو ہلاک کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ شہر میں ہلاک ہونے والے دو شدت پسندوں میں سے ایک کا نام عبداللہ الرشید الرشود ہے جو ملک میں خطرناک مشتبہ شدت پسندوں میں سے ایک ہے ۔ انہیں القاعدہ کا نظریاتی رہنما کہا جا تا ہے ۔القاعدہ پر سعودی عرب میں متعدد حملے کرنے کا الزام ہے۔ اس جھڑپ میں سعودی سیکیورٹی فورس کا ایک اہلکار ہلاک اور کم از کم مزید دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اے ایف پی کے نامہ نگار نے دو تباہ شدہ گاڑیاں دیکھیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ ان گاڑیوں میں مشتبہ شدت پسند تھے۔اس سلسلے میں متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور دیگر شدت پسندوں کی تلاش میں ہیلی کاپٹر فضا میں چکر لگا رہے ہیں۔ سعودی ٹیلی وثرن العربیہ نے اطلاع دی ہے کہ سعودی حکام دو اور شدت پسندوں کا پیچھا کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن بہت اہم ہے ۔ ٹی وی چینل کے مطابق پولیس کو مشرقی ریاض سے کچھ اہم اعدادو شمار اور بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا ہے ۔ سعودی سیکیورٹی فورسیز شدت پسندوں کے مسلسل حملوں کی لہر کا مقابلہ کر رہے ہیں جن میں 80 سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں ۔ گزشتہ ہفتے شاہ فہد نے ان شدت پسندوں کے لئے مشروط معافی کا اعلان کیا تھا کہ وہ ایک ماہ کے اندر اندر خود کو حکام کے حوالے کر دیں۔اس معافی کے تحت ان لوگوں کے خلاف کوئی الزامات نہیں لگائے جائیں گے جو خود کو حکام کے حوالے کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||