غزہ میں تازہ اسرائیلی آپریشن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی افواج نے فلسطینی شدت پسندوں کے خلاف غزہ میں بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کر دی ہے۔ یہ کاروائی اسرائیل پر فلسطینی شدت پسندوں کے حالیہ راکٹ حملوں کے بعد کی گئی ہے۔ لگ بھگ چوبیس بکتر بند گاڑیاں بیت حنون کے علاقے میں گھس گئیں۔ پیر کو اسی علاقے سے ایک اسرائیلی شہر پر راکٹ حملہ کیا گیا تھا۔ کچھ فلسطینی اس علاقے سے بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس حملے میں ایک شخص مارا گیا ہے جبکہ اسرائیل پر ہونے والے راکٹ حملے میں دو اسرائیلیوں کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق تقریباً دو درجن اسرائیلی ٹینک اور بلڈوزر علاقے میں گھس آئے ۔ اس سے پہلے علاقے پرگولیوں کی بوچھاڑ کی گئی۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے فی الحال اس بارے میں کوئی بیان نہیں دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک شدہ فلسطینی تشدد پسند تنظیم حماس کا نمایاں کارکن راسم ادوان تھا۔ اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ فلستینی راکٹ اسرائیل کے ایک صنعتی علاقے،اور کے سبزی بزار میں گرے تھے۔ یہ اطلاع بھی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم ایرئیل شیرون نے سخت جوابی کارروائی کا حکم دیا ہے۔ اسرائیلی شہر پر ہونے والے حملے میں ایک تین سالہ بچہ اور ایک انچاس سالہ شخص مارے گئے تھے۔ حال ہی میں شیرون نے غزہ سے یہودی بستیوں اور اسرائیلی فوجوں کو ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا مگر اس حملے سے اسرائیل میں اس فیصلے کی مخالفت بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ فلسطینی تشدد پسندوں نے اکثر گھروں میں بنے، غیر پختہ راکٹوں سے اسرائیل پر حملے کئے ہیں مگر یہ پہلی بار ہے کہ اسرائیل کو جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ فلسطینی حملے کے جواب میں اسرائیلی فوجی ہیلی کاپٹروں نے غزہ پر بھاری گولہ باری شروع کر دی۔ غزہ شہر میں مقیم بی بی سی اور دیگر میڈیا اداروں کے دفاتر جس عمارت میں ہیں اس پر رات گئے تین میزائلوں سے حملہ کیا گیا تھا۔ حملہ کے وقت عمارت میں کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ فلسطینی عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس حملے میں دو افراد زخمی ہوگئے اور نصیرت میں پناہگزینوں کے کیمپ میں ایک خالی دھات کا کارخانہ تباہ ہو گیا۔ بی بی سی کے نامہ نگار ایلین جانسن کے مطابق غزہ کے لوگوں کو یقین تھا کہ اسرائیل جوابی حملے ضرور کرےگا۔ ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ رات کے بارہ بجے کے قریب شہر میں فوجی ہوائی جہازوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ اسی وقت دھماکے اور میزائیل گرنا شروع ہو گئے۔ میزائیل میڈیا سینٹر کی نچلی منزل پر گرے۔ اسرائیلی فوجی ترجمان نے اے ایف پی کے حوالے سے بتایا کہ پیر کے ہوائی حملوں میں فلسطینی شدت پسندوں اور ان کے حامیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نصیرت کا کارخانہ حماس نے کئی بار استعمال کیا تھا اور میڈیا سینٹر میں کچھ ایسے اداروں کے دفاتر تھے جو اسرائیل کے خلاف نفرت پھیلاتے تھے اور جن کے تعلقات شدت بسندوں کے ساتھ تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||