افغانستان: غورپر باغیوں کا قبضہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان باغی ملیشیا کمانڈر عبدالسلام خان نے صوبہ غور کے دارالحکومت چخچرن پر قبضہ کر لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ چخچرن پر قبضہ کے دوران شدید لڑائی ہوئی جس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق کم از کم دس افردا کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی پولیس کمانڈر نے بتایا کہ حملے اور لڑائی کا آغاز جمعرات کو ہوا اور حملے میں راکٹ، توپخانے اور ماٹرز کا استعمال دن بھر جاری رہا۔ بتایا گیا ہے کہ صوبائی گورنر فرار ہو کر مغربی شہر ہرات چلے گئے ہیں۔ افغانستان میں حکومت ستمبر میں ہونے والے انتخابات سے قبل ملیشیاؤں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کو غیر مسلح کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے حال ہی میں واشنگٹن کے دورے کے دوران ملیشیاؤں کو غیر مسلح کرنے کے لیے عالمی فنڈنگ کی اپیل کی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||