پاکستان غیر نیٹو اتحادی بن گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے پاکستان کو غیر نیٹو اتحادی کا خطاب دے کر اس کے ساتھ تعلقات مضبوط بنالئے ہیں۔ اس طرح کا پہلا اعلان امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے مارچ میں پاکستان کے اپنے دورے کے دوران کیا تھا ۔ یہ ایک طرح کا تحفہ ہے۔ یا یوں کہیئے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے تعاون کے لئے امریکہ کے شکریہ کہنے کا ایک طریقہ۔ پاکستان اب ان ممالک کے چھوٹے سے گروپ کا حصہ بن گیا ہے جو امریکہ کے غیر نیٹو اتحادی ہیں۔ اس حیثیت کا مطلب یہ ہے کہ اب پاکستان غیر ملکی امداد اور دفاعی تعاون کے شعبوں میں کئی طرح کی امداد کا حقدار ہو گیا ہے جن میں دفاعی سازو سامان مہیا کرنا بھی شامل ہے ۔ صرف چھہ برس پہلے کی بات ہے جب پاکستان جوہری دھماکے کرنے کی وجہ سے امریکی پابندیوں کا شکار تھا اور آج وہ اس خصوصی کلب میں شامل ہے جس میں امریکہ کے اسرائیل اور جنوبی کوریا جیسے نزدیکی دوست ہیں۔ ایک عجیب بات یہ ہے کہ پاکستان کو یہ خصوصی مقام دینے کا صدر کا اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب گیارہ ستمبر کے حملوں کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی رپورٹ میں پاکستان پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے اوسامہ بن لادن کو پناہ دینے کے لئے طالبان کی مدد کی تھی۔ لیکن یہ امریکہ اور پاکستان میں دوبارہ دوستی ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||