افغانستان کے لئے امداد کا اعلان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش اور افغان رہنما حامد کرزئی نے واشنگٹن میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں بیان دیتے ہوئے افغانستان میں امریکی پالیسیوں کو کامیاب قرار دیا ۔ صدر بش نے افغانستان کی معیشت اور جمہوریت کو سہارا دینے کے لئے متعدد اقدامات کا اعلان کیا۔ وائٹ ہاؤس کے لان میں مشترکہ بیان دینے والے دونوں رہنماؤں کو چند ماہ میں انتخابات کا سامنا ہے ۔حامد کرزئی نے تعلیم اور معیشت کی بات کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ انتخابات ستمبر میں طے شدہ وقت پر ہوں گے۔ صدر بش نے اساتذہ کی ٹریننگ اور چھوٹے کاروباروں کی مدد کے لئے نئی مالی امداد کا اعلان کیا۔ جب کرزئی سے ان خبروں کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ دو بارہ منتخب ہونے کے لئے جنگجو سرداروں سے سمجھوتے کر رہے ہیں توانہوں نے کہا کہ ’ افغانستان میں امن و استحکام قائم کرنا میری ذمہ داری ہے اور میں ہر اس شخص سے بات کروں گا جو مجھ سے امن و استحکام اور جمہوریت کے فروغ کی بات کرنے آئےگا کوئی سودا یا سمجھوتہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی اتحاد قائم ہوا ہے ‘۔ جہاں ایک طرف یہ دونوں رہنماء افغانستان میں امریکی پالیسیوں کو کامیاب قرار دیتے ہوئےاسے ایک مثال کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ عراق میں بھی ایسا ممکن ہے وہیں افغانستان سے تشدد کے مزید واقعات کی اطلاع ہے ۔ قندھار میں افغانستان کے محکمہ پناہ گزیں کے سربراہ کوگولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ جبکہ کابل میں ایک راکٹ حملے میں ایک شخص زخمی ہوگیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||