ایرانی دانشور کی پھانسی کالعدم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی سپریم کورٹ نے ایک ممتاز منحرف دانشور کی پھانسی کی سزا کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ انہیں یہ سزا ایرانی کی مذہبی قیادت کی توہین کرنے پر سنائی گئی تھی ـ ہاشم آغا جاری کو ایک صوبائی عدالت نے دو سال قبل ان کے اس بیان پر جس میں کہا گیا تھا کہ اسلام میں مذہبی قیادت کی کوئی گنجائش نہیں پھانسی کی سزا سنائی تھی۔اس کا ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سخت رد عمل سامنے آیا تھا۔ ان کے ریمارکس کو انتہا پسندوں نے ایران کی مذہبی قیادت کے خلاف چیلنج تصور کیا تھا۔ لیکن بی بی سی کے مبصر صادق صبا کا کہنا ہے کے ایرانی حکومت یہ بات سمجھ گئی ہے کہ مسٹر آغا جاری کی پھانسی ایرانی قیادت کے لیے برا شگون ہو گا۔ پروفیسر ہاشم آغا جاری کی سزا پچھلے دو سال سے ایران کا سب سے متنازعہ معاملہ رہا ہے اور اس کی وجہ سےحالیہ سالوں میں ملک میں سب سے بڑا احتجاج ایران کے چند ممتاز مذہبی دانشورں نے آغا جاری کے ریمارکس کو توہین آمیز قرار دیے جانے کو درست قرار نہیں دیا۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور مغربی ممالک نے بھی اس سزا کو کلعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان سب مطالبات کے باوجود انتہا پسند مصر تھے کہ آغا جاری کو مذہبی قیادت کی توہین کرنے پر پھانسی دینی چاہئے۔ تاہم اب یہ لگتا ہے کہ ایرانی قیادت یہ جان چکی ہے کہ کسی کو صرف اس کے خیالات کی وجہ سے مار دینے کےنتائج ملک کے لئے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب ایران یورپی یونین کے ساتھ تجارتی سمجھوتہ کرنا چاہتا ہے اور ساتھ ہی نیوکلیر ایجنسی آئی اے ای اے اس ماہ کے آخر میں یہ اعلان کرنے والی ہے کہ آیا ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن ہے یا نہیں آغا جـاری کی پھانسی ایران کے بیرونی دنیا سے مراسم بحال کرنے کے عمل کو شدید متاثر کر سکتی تھی۔ اندرونی طور پر بھی ایران کی قدامت پسند قیادت فروری کے الیکشن میں اپنی متنازعہ کامیابی کے بعد عوام کی حمایت حاصل کرنا چاہتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||