’تمباکواور غربت، تباہ کن گرداب‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے صحت کے ادارے نے کہا ہے کہ دنیا کے غریب ترین لوگ تمباکو کے استعمال سے زیادہ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کی طرف سے یہ بات سوموار کو تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن کے موقع پر کہی گئی ہے۔ ڈیلیو ایچ او نے کہا کہ حکومتوں اور لوگوں کو یہ بات مان لینی چاہیے کہ تمباکو نوشی غربت میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق تمباکو نوشی کی وجہ سے پیداوار اور آمدنی میں کمی واقعہ ہوتی ہے اور یہ اموات اور بیماری کا موجب بھی بنتی ہے۔ تمباکو نوشی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث صحت کے شعبے پر بھی زیادہ بوجھ پڑتا ہے جس سے ملکوں کی مجموعی اقتصدای صورت حال متاثر ہوتی ہے۔ صحت کے عالمی ادارے کے ڈاریکٹر جنرل لی جونگ ووک نے کہا کہ دنیا اس طرح کے معاشی بوجھ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق تمباکو نوشی کرنے والے چوراسی فیصد افراد دنیا کے ترقی پذیر ملکوں میں رہتے ہیں۔ اس سال تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن کا موضوع ’ تمباکو اور غربت ، ایک تباہ کن گرداب‘ ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والے خوراک، بچوں کی تعلیم اور صحت کے بجائے سگریٹ پر پیسے خرچ کرتے ہیں جس سے غریب خاندان مذید متاثر ہوتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||