شہرستانی نےانکار کر دیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے ایک اہم جوہری سائنسدان حسین شہرستانی نے، جن کے متعلق کہا جا رہا تھا کہ وہ عراق کے نئے وزیرِ اعظم بنائے جائیں گے، یہ عہدہ لینے سے انکار کر دیا ہے۔ باسٹھ سالہ حسین شہرستانی کو صدام حسین کے دور میں گرفتار کر کے ابو غریب جیل میں بند کر دیا گیا تھا۔ اقوامِ متحدہ کے عراق میں خصوصی ایلچی لخدر براہیمی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شہرستانی نے وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ لینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہے کہ وہ ملک کی خدمت دوسرے طریقوں سے کریں گے۔ براہیمی اس وقت امریکی صدر کے ایلچی رابرٹ بلیکویل کی مشاورت سے نگران حکومت کے لئے افراد کا چناؤ کر رہے ہیں۔ بغداد میں نگران حکومت 30 جون کو اقتدار کی منتقلی کے بعد انتظامات سنبھال لے گی۔ براہیمی نے ان قیاس آرائیوں کی بھی تردید کر دی کہ نئی نگران حکومت کے بارے میں فیصلہ کر لیا گیا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس کے بارے میں جلد فیصلہ ہو جائے۔ پہلے شہرستانی نے کہا تھا کہ وزیرِ اعظم کا عہدہ قبول کر لیں گے لیکن بعد میں براہیمی کے ترجمان احمد فوزی نے کہا کہ انہوں نے اس سے انکار کر دیا ہے۔ امریکہ نے کہا تھا کہ اسے ایک شیعہ مسلم کی تلاش ہے جو کسی فرقے یا پارٹی کے بہت قریب نہ ہو لیکن اس کے ساتھ ہی اسے کوئی ایسا ٹیکنوکریٹ بھی نہیں چاہیئے جس کی کوئی سیاسی حیثیت ہی نہ ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||