بنگلہ دیش: درجنوں کے ڈوبنے کا خطرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کے جنوبی حصے میں ایک فیری ڈوب گئی ہے جس میں دو سو سے زائد مسافر سوار تھے۔ یہ دو منزلہ فیری ڈھاکہ سے تقریباً ایک سو ستر کلومیٹر دور چندرپور سے نزدیک میگھنا نامی دریا میں زبردست طوفان کی وجہ سے ڈوب گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ستاون لوگ اِس حادثے میں بچے ہیں جبکہ باقی مسافروں کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اس کے علاوہ آٹھ لاشیں اب تک دریا سے نکالی جا چکی ہیں۔ بنگلہ دیش میں دریا کے بہت بڑے نیٹ ورک اور بری انتظامیہ کی وجہ سے یہاں ایم وی لائٹنگ سن نامی فیری اُس وقت الٹی جب یہ ڈھاکہ کے راستے سے جنوبی مدری پور کے علاقہ کی طرف جا رہی تھی۔ یہ حادثہ اتوار کے روز پیش آیا۔ پولیس کے اعلیٰ افسر نے بتایا ہے کہ تقریباً پچاس کے قریب لوگ تیر کر دریا کے کنارے تک پہنچ سکے تھے جبکہ سات لوگوں کو پانی سے نکال لیا گیا ہے۔ محمد دولال میاں نامی ایک پولیس آفیسر نے جائے حادثہ پر خبر رساں اے پی ایجنسی کو بتایا کہ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا اُس وقت زیادہ تر لوگ سو رہے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ فیری اگرچہ دریا کے کنارے ڈوبی تھی لیکن پھر بھی بپھرے ہوئے دریا کے سبب مسافروں کو دریا سے نکالنے کا کام خاصہ دشوار ہو گیا تھا۔ گاؤں کے لوگوں اور مچھیروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے موٹر بوٹ کے ذریعے مسافروں کی جان بچانے کی پوری کوشش کی۔ اس کے علاوہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مون سون عنقریب شروع ہونے والی ہے جس کی وجہ سے طوفان کبھی بھی خطرناک صورت اختیار کر سکتا ہے۔ ڈھاکہ سے بی بی سی کے نمائندے رونلڈ بیورک کا کہنا ہے کہ میگھنا دریا کا یہ حصہ جہاں یہ حادثہ پیش آیا کافی خطرناک تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اس جگہ سے کافی نزدیک میگھنا دریا کا پدما دریا سے ملاپ ہوتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پچھلے سال اسی دریا میں فیری کے ڈوبنے کے سبب سات سو لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||