BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 May, 2004, 07:46 GMT 12:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ وضاحت کرے: کونسل
احمد چلابی
احمد چلابی کے گھر کے باہر امریکی فوجی
امریکہ کی نامزد کردہ گورننگ کونسل نےجمہ کو ایک خصوصی اجلاس میں کونسل کے رکن احمد چلابی کے گھر چھاپے پر اتحادی عہدیداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔

گورننگ کونسل نے کہا کہ وہ اتحادی عہدیداروں سے اس کا جواب مانگیں گے۔

جعمرات کو احمد چلابی کے گھر پر امریکی فوج اور عراق پولیس نے مشترکہ طور پر چھاپہ مارا تھا اور ان کے گھر سے کچھ کمپیوٹر اور دستاویزات قبضے میں لے لی تھیں۔

اجلاس کے بعد احمد چلابی نے کہا کہ اتحادی عہدیدار اس کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔

امریکی انتطامیہ کا کہنا ہے کہ چھاپہ کی کارروائی عراقی فوجیوں نے کی تھی اور وہ اس کی تحقیق کر رہے ہیں۔

احمد چلابی امریکی حکومت کے منظور نظر رہے ہیں لیکن کچھ عرصہ سے وہ امریکہ سے دور ہوتے جا رہے تھے۔

احمد چلابی نے کہا کہ جمعرات کو امریکی فوج نے اس کے گھر پر چھاپہ انہیں بدنام کرنے کے لیے مارا ہے۔

احمد چلابی نے اپنی ایک ٹوٹی ہوئی تصویر دکھاتے ہوئے کہا کہ مسلح پولیس نے انہیں سوتے میں جگا کر ان کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی اور کئی اہم دستاویزات اور قرانِ کریم کے ایک نادر نمونے کوقبضے میں لے لیا اور ان کے سامان کو نقصان پہنچایا۔

احمد چلابی
احمد چلابی اب امریکہ کی نظر میں پہلے جیسے نہیں رہے

احمد چلابی نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ وہ عراق میں امریکہ کے بہترین دوست تصور کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر گورننگ کونسل ان کے گھر پر چھاپہ مارتی ہے تو گورننگ کونسل اور عراقی عوام کے درمیان تعلقات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

واشنگٹن میں امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ نے کہا ہے کہ انہیں چھاپے کے بارے میں کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

احمد چلابی نے کہا ہے کہ اس طرح کا چھاپہ امریکی حکام کی منظوری کے بغیر نہیں مارا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جب امریکہ اپنے دوستوں کے خلاف ہو جائے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ بڑی مشکل میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ ان کے اثرو رسوخ سے خائف ہے اور ان کے اس مطالبے سے بھی خوش نہیں ہیں کہ تیس جون تک عراقی عوام کو مکمل خود مختاری منتقل کر دینی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے گھر سے جو دستاویزات لیے جائی گئی ہیں ان میں اقوام متحدہ کے خوراک برائے تیل پروگرام میں مبینہ بدعنوانیوں کے بارے میں کی جانے والی تحقیقات کے کاغذات بھی شامل تھے۔

انہوں نے کہا اس تحقیق کی وجہ سے بھی امریکی ان سے ناراض تھے۔

احمد چلابی کو امریکی وزارتِ دفاع پینٹاگون کے حکام عراق کے مستقبل کے صدر کے طور پر دیکھ رہے تھے۔

اس سال جنوری میں انہیں امریکی صدر کی طرف سے اسٹیٹ آف یونین کے خطاب کے موقعہ پر صدر کے مہمان کے طور پر امریکہ مدعو کیا گیا تھا۔

لیکن گزشتہ کچھ مہینوں سے واشنگٹن میں چلابی کو ایرانی رہمناؤں سے تعلقات پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پینٹاگون نے احمد چلابی کی پارٹی عراقی نیشنل کانگرس کو دی جانے والی تین لاکھ چالیس ہزار کی ماہانہ امداد میں بھی کمی کر دی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد