حالات خراب ہو سکتے ہیں: بش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے عراق کی صورتِ حال پر اپنی ریپبلیکن پارٹی کے سیاست دانوں سے بات چیت کی ہے اور کہا ہے کہ عراق کی صورتِ حال بہتر ہونے سے قبل مزید خراب ہو سکتی ہے۔ تاہم صدر بش نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ تیس جون تک عراقیوں کو محدود خود مختاری دینے کا وعدہ پورا کریں گے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ صدر بش کی جماعت میں بہت سے لوگ عراق کی صورتِ حال اور امریکی فوجیوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کی وجہ سے مضطرب ہیں۔ سینیٹر رک سینٹورم نے صدر بش سے ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ صدر بش یہ کہنا چاہتے تھے کہ عراق کے حوالے سے امریکہ کی ایک خاص پالیسی ہے اور یہ پالیسی اگلے دنوں میں مزید سخت ہوگی۔ ریپبلیکن پارٹی کے سینیٹر ٹرنٹ لاٹ کا کہنا تھا کہ صدر بش پر عزم تھے کہ عراقی قیدیوں کے ساتھ بد سلوکی کے واقعات اور مسلسل جھڑپوں کے باوجود امریکہ کے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہ کہ صدر بش نے واضح کر دیا کہ عراق سے کسی بھی قیمت پر واپسی نہیں ہوگی۔ صدر بش کی اپنی پارٹی کے رہنماؤں سے یہ ملاقات اس وقت ہوئی ہے جب نئی تصویریں سامنے آئی ہیں جن میں ایک امریکی فوجی ابو غریب جیل میں مر جانے والے ایک عراقی قیدی کی لاش کے ساتھ کھڑا ہوا تصویر بنوا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||