برغوتی قتل کے قصور وار قرار پائے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کی ایک عدالت نے فلسطینی رہنما ماروان برغوتی کو غربِ اردن میں پانچ اسرائیلیوں کے قتل میں قصوروار قرار دیا ہے۔ برغوتی کو، جن کا مقدمہ دو سال قبل شروع ہوا تھا، مبینہ طور پر الاقصیٰ مارٹیر برگیڈ کے رنگ لیڈر کے طور پر سزا سنائی گئی۔ استغاثہ نے عدالت سے کہا ہے کہ برغوتی کو پانچ مرتبہ سزائے موت سنائی جائے۔ برغوتی نے عدالت کو یہ کہہ کر رد کر دیا ہے کہ اسے کوئی اختیار نہیں کہ وہ ان پر مقدمہ چلائے۔ انہوں نے کہا کہ انتفادہ ایک جائز جدوجہد ہے۔ ان کو خاص طور پر اس بات پر سزا ہوئی کہ انہوں نے چار خودکش بمباروں کو تیار کیا تھا جن میں سے تین اپنے منصوبے میں کامیاب رہے اور تین فوجیوں اور ایک یونانی راہب کی موت کا سبب بنے۔ تاہم وہ اکیس دوسرے افراد کی موت کے الزام سے بری ہو گئے۔ عدالتی فیصلے کے بعد برغوتی نے کہا کہ وہ معصوم انسانوں کی جان لینے کے خلاف ہیں لیکن فلسطینیوں کو کسی نہ کسی طرح غربِ اردن پر اسرائیلی قبضے کی مخالفت ضرور کرنا تھی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ خودکش حملے کرنا بہرحال ٹھیک نہیں۔ اطلاعات کے مطابق غربِ اردن کے علاقے رملہ میں فلسطینیوں نے برغوتی کی سزا کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا ہے۔ تینتالیس سالہ برغوتی فلسطینیوں میں ایک قابلِ قدر مقام رکھتے ہیں اور خیال ہے کہ عدالت کے اس فیصلے سے ان کی مقبولیت میں اور بھی اضافہ ہو گا۔ نامہ نگاروں کے مطابق وہ بہت اچھی عبرانی بولتے ہیں اور اس فیصلے کے باوجود اسرائیل میں لوگ انہیں ممکنہ مفاہمت کار کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔ برغوتی نے پہلے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن معاہدے کی حمایت کی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||