پچاس عراقی مزاحمت کار ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ تقریباً پچاس عراقی جنگجو اتحادی فوج کے ہاتھوں ہلاک ہوئے ہیں۔ ایک امریکی فوجی ترجمان بریگیڈئر جنرل مارک کمٹ نے کہا ہے کہ کربلا میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران امریکی فوج کے ہاتھوں مقتدیٰ الصدر کے تیس حامی ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسین اور حضرت عباس کے مزارات کے قریب تقریباً سترہ جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ عراق کے جنوبی حصے ناصریہ میں جہاں اطالوی فوج گشت کر رہی تھی، بیس عراقی ہلاک ہوئے ہیں۔ نجف اشرف میں امریکی فوجی دستے پر حملے کی وجہ سے ایک عراقی کے ہلاک ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ اہلِ تشیح کے مرجع آیت اللہ العظمیٰ سیستانی کے گھر پر حملہ ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوئے ہیں۔ ادھرا تحادی فوج کا کہنا ہے کہ اعصاب شکن ’سرین گیس ‘ کی وجہ سے ایک پرانی کیمیکل فیکٹری کے باہر دھماکہ ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کے نتیجے میں دو فوجی متاثر ہوئے ہیں۔ ایک امریکی فوجی اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ گیس ایک دیسی ساخت کے بم سے خارج ہوئی جو ناکارہ بنائے جانے سے پہلے ہی پھٹ گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ حادثہ تقریباً دو دن پہلے ہوا جبکہ اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||