BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 May, 2004, 14:45 GMT 19:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانوی اخبارات غیر ملکی قبضہ میں

News image
برطانیہ کے کثیر الاشاعت اخبار ڈیلی مرر میں عراقی قیدیوں کے ساتھ برطانوی فوجیوں کی بدسلوکیوں کی جعلی تصاویر کی اشاعت کے بعد اخبار کے ایڈیٹر پئیرس مورگن کی ڈرامائی برطرفی کے بارے میں اب یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ مرر گروپ کی مالک کمپنی ٹرینیٹی مرر کی دو بڑی حصہ دار امریکی کمپنیوں نے، جو عراق کی جنگ کے خلاف مرر کی پالیسی پر ایڈیٹر مورگن سے سخت ناراض تھیں، ان کی برطرفی کا اس انداز سے مطالبہ کیا تھا کہ ٹرینیٹی مرر کے بورڈ کے لئے رد کرنا ممکن نہ تھا-

برطانیہ میں بہت سے لوگوں کو اور خود مرر کے پچیس لاکھ قارئین میں سے بیشتر کو اس بات پر تعجب ہوا ہے کہ مرر کی اصل مالک برطانوی نہیں بلکہ امریکی کمپنیاں ہیں لیکن جو برطانوی اخبارات کے راز درون خانہ سے واقف ہیں ان کے لئے یہ بات حیرانگی کا باعث نہیں کیونکہ اس وقت برطانیہ کے اخبارات کی اکثریت غیر ملکیوں کی ملکیت میں ہے-

برطانیہ کے اخبارات پر غیر ملکی قبضہ کی شروعات سن ساٹھ کے عشرہ کے وسط میں اس وقت ہوئی تھی جب برطانیہ کے دوسو بیس سال پرانا اخبار ٹائمز ، کینیڈا کے اخبارات کے مالدار ناشر مسٹر ٹامسن نے خریدا تھا- اس وقت برطانیہ کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں زبردست شور مچا تھا اور ٹائمز کی فروخت کی شدید مخالفت کی گئی تھی- ایک تو اس بنا پر کہ برطانیہ کا سب سے پرانا اور برطانوی روایات کا علمبردار اخبار ایک غیر ملکی ناشر کی ملکیت میں جا رہا ہے دوسرے یہ کہ یوں برطانیہ کے اخبارات پر غیر ملکی ملکیت کے دروازے وا ہو جائیں گے-

اس زمانے میں مسٹر ٹامسن نے ٹائمز کی ملکیت حاصل کرنے سے پہلے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ٹائمز کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کریں گے ۔
ویسے بھی مسٹر ٹامسن اس بارے میں خاصے مشہور تھے کہ وہ اخبارات کے ادارتی عمل میں کبھی مداخلت نہیں کرتے۔ ان کی تمام تر توجہ مالی پہلووں پر رہتی تھی۔

برطانیہ کے پرانے اور صف اول کے اخبار کے مالک بننے کے بعد انہوں نے برطانیہ کے دارالامرا کے رکن بننے کابھی اعزاز حاصل کیا اور وہ لارڈ ٹامسن کہلائے-

برطاینہ کے سیاسی اور صحافتی حلقوں کا یہ خدشہ صحیح ثابت ہوا کہ ٹائمز کی فروخت کے بعد برطانوی اخبارات کی ملکیت کے دروازے پوری دنیا پر کھل جائیں گے- چنانچہ ٹائمز کے لارڈ ٹامسن کے اخبارات کے اصطبل میں جانے کے بعد آسٹریلیا کے اخبارات کے مالک روپرٹ مرڈاک برطانیہ کے اخبارات کے میدان میں کودے اور انہوں نے سب سے پہلے اتوار کا کثیر الاشاعت اخبار نیوز آف دی ورلڈ خریدا اس کے بعد انہوں نے تیزی سے برطانوی اخبارات پر قبضہ کے پر پھیلانے شروع کردیئے یہاں تک کہ جلد ہی انہوں نے لارڈ ٹامسن کو بھی اس میدان سے نکال باہر کیا۔

روپرٹ مرڈاک نے نوے سال پرانے ایک سنجیدہ اخبار ہیرالڈ کو خرید کر اس کا نام بدل کر سن رکھا اور اسے برطانیہ کے واحد کثیر الاشاعت اخبار مرر کے مقابلہ پر کھڑا کر دیا- یوں انہوں نےبرطانوی صحافت میں ایک نئے رجحان کا آغاز کیا- مرر جو سن انیس سو تین میں عورتوں کے اخبار کی حیثیت سے منظر عام پر آیا تھا سن ساٹھ کے عشرہ میں محنت کشوں کا اخبار مانا جاتا تھا اور برطانوی اخبارات میں جو ٹوری پارٹی کے حامی تھے ، لیبر پارٹی کا واحد حامی تھا-

روپرٹ مرڈاک کے سن نے مرر کے مقابلہ میں ٹوری پارٹی کا علم سنبھالا- عام خیال یہ ہے کہ سن اناسی میں ٹوری لیڈر مارگریٹ تھیچر کو انتخابات جتوانے میں سن نے اہم کردار ادا کیا تھا- یہی وجہ ہے کہ سن ستانوے کے عام انتخابات سے پہلے ٹونی بلئیر نے مرڈاک سے ملاقات کی تھی اور ان کی آشیر باد کے بعد سن نے لیبر پارٹی کی حمایت کی تھی اور نتیجتاً ٹونی بلئیر کامیابی سے ہم کنار ہوئے تھے-

اس وقت روپرٹ مرڈاک کے ادارے نیوز انٹرنیشنل کے برطانیہ میں سب سے بڑے ٹیلی وژن چینل اسکائی اور علاقائی اخبارات اور رسائل کے علاوہ چار بڑے اخبارات ہیں- ایک سن جس کی یومیہ اشاعت پینتیس لاکھ سے زیادہ ہے دوسرا ٹائمز جس کی یومیہ اشاعت ساڑھے چھ لاکھ ہے تیسرا سنڈے ٹائمز ہے جس کی اشاعت تیرہ لاکھ ہے اور چوتھا اتوار کا اخبار نیوز آف دی ورلڈ جس کی اشاعت اڑتیس لاکھ ہے-

مرر گروپ کہجس کے زیادہ تر حصص امریکی کمپنیوں کے قبضہ میں ہیں بے شمار علاقائی اخبارات اور رسائل کے علاوہ چار بڑے اخبارات ہیں- ایک ڈیلی مرر جو پچیس لاکھ چھپتا ہے دوسرا سنڈے مرر جس کی اشاعت سترہ لاکھ ہے تیسرا اخبار اسکاٹ لینڈ کا ڈیلی ریکارڈر ہے اور چوتھا بھی اسکاٹ لینڈ کا سنڈے میل ہے۔

برطانوی اخبارات کا تیسرا بڑا گروپ جو غیر ملکی ملکیت میں ہے وہ ڈیلی ٹیلیگراف کا گروپ ہے- کینیڈا کے اخبارات کے مالک کونارڈ بلیک اس کے مالک ہیں لیکن پچھلے دنوں انہوں نے مالی بدعنوانیوں کے الزامات کے بعد اس گروپ کی ملکیت سے دست بردار ہونے کا فیصلہ کیا اور اب یہ گروپ برائے فروخت ہے-

ڈیلی ٹیلیگراف کی اشاعت اس وقت ساڑھے نو لاکھ یومیہ ہے اور سنڈے ٹیلی گراف سات لاکھ چھپتا ہے- یہ اخبارات برطانیہ کے قدامت پسند اور مالدار طبقہ میں بہت مقبول ہیں-

برطانیہ کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں اس وقت برطانوی اخبارات اور خاص طور پر ٹیلیویژن میڈیا پر غیر ملکی قبضہ پر تشویش بڑھ رہی ہے کیونکہ وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ برطانیہ کی سیاست اور پالیسیوں پر غیر ملکی اثرات کے گہرے سائے پڑ رہے ہیں اور برطانیہ کے عوام پر اثر انداز ہونے کے لئے سیاسی رہنما ان اخبارات کے غیر ملکی مالکوں کی حمایت اور آشیرباد حاصل کرنے کے لئے زیادہ بے تاب نظر آتے ہیں-

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد