شدید لڑائی میں جمعہ کا خطبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی شہر نجف میں امریکی فوج اور شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کے درمیان شدید جاری چھڑ گئی ہے۔ شدید لڑائی کے باوجود مقتدیٰ الصدر نے کوفہ میں جمعہ کا خطبہ دیا ہے اور اس میں امریکی صدر بش، برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور ان عراقیوں کی مذمت کی ہے جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مدد کر رہے ہیں۔ مقدیٰ الصدر اور ان کے حامیوں کے خلاف نئی کارروائی کے دوران امریکی ٹینک شہر کے اندر تک داخل ہو کر حضرت علی کے روضے کے قریب واقع قبرستان میں گھس آئے ہیں اور وہاں سے گولہ باری کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ اس قبرستان کو خاص تقدیس حاصل ہے اور دنیا بھر میں اہلِ تشعیہ کی کوشش ہوتی ہے کہ انہیں اس قبرستان میں جگہ ملے۔ امریکی فوجیوں کا کہنا ہے کہ وہ یہ کارروائی اس لیے کر رہے ہیں کہ ان لوگوں کو پکڑ اور ختم کر سکیں جو ان پر چھاپہ مار حملے کرتے ہیں۔ کوفہ نجف کے جنوب میں ہے اور اس طرف جانے والی سڑک پر بھی صبح ہی سے لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ مقتدیٰ الصدر نے یہاں خطبہ دینے کا اعلان پہلے ہی سے کر رکھا تھا۔ جنوبی عراق میں مقتدیٰ الصدر کے پچھلے مہینے امریکی فوج کے خلاف اعلانِ جنگ کے بعد سے ان کے حامیوں اور امریکی فوج کے درمیان ایسی کئی جھڑپیں ہوچکی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||