بدلہ لیں گے: عراقی بچی کے والدین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹھ سالہ عراقی بچی حنان کے والدین نے کہا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی ہلاکت کا بدلہ لیں گے۔ حنان صالح مترود کو بصرہ میں گزشتہ ماہ اگست کے دوران برطانوی فوجیوں نے مبینہ طور پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ اس کے والد صالح نے بی بی سی کو بتایا ’میں چاہتا ہوں کہ جس فوجی نے میری بیٹی کو گولی ماری تھی اسے عدالت میں پیش کیا جائے اور حنان کی موت کی تلافی کی جائے‘۔ یہ واقعہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ سے منظر عام پر آیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ برطانوی فوجیوں کے ہاتھوں عراقی شہریوں کی ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ مئی سے اب تک برطانوی فوجی سینتیس عراقی شہریوں کی ہلاکت میں ملوث رہے ہیں تاہم اب تک صرف نصف واقعات کی تحقیق کی گئی ہے۔ حنان کا والدہ دلال کا کہنا ہے کہ حنان کی موت پر پورا خاندان انتہائی سوگوار ہے اور بدلہ لینا چاہتا ہے۔ رپورٹ میں میں کہا گیا ہے کہ حنان کو بظاہر کنگز رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے سپاہیوں کی گولیوں کا نشانہ بنی۔ ایک عینی شاہد نے ایمنسٹی کو بتایا کہ لڑکی کو ساٹھ میٹر کی دوری سے نشانہ باندھ کر مارا گیا۔ اس بیان سے فوج کے اس موقف کی تردید ہوتی ہے کہ وہ حادثاتی طور پر ہلاک ہوئی۔ حنان کے پیٹ میں گولی لگی تھی اور وہ اگلے روز ہی جاں بحق ہوگئی۔ حنان کی والدہ نے مزید کہا ’مجھے برطانویوں سے نفرت ہے۔ اگر وہ فوجی میرے سامنے آجائے جس نے میری بیٹی کو ہلاک کیا ہے تو میں اسے مار ڈالوں گی‘۔ اس خاندان کو برطانوی فوج کی جانب سے ایک خط ملا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ حنان کی موت ایک حادثہ تھی تاہم اس خط میں نہ تو کوئی معذرت کی گئی تھی اور نہ ہی کسی تلافی کا ذکر تھا۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے بیشتر افراد کے ورثاء کے ساتھ یہی سلوک کیا جاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||