BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 May, 2004, 20:05 GMT 01:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کانگریس کی زبردست جیت

کانگریس کے ارکان
کانگریس نے اِس پیمانے پر کامیابی کے بارے میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔
ہندوستان کی ریاست آندھر پردیش کے اسمبلی انتخابات میں حکمراں جماعت تیلگو دیشم پارٹی کو جس طرح شکست فاش ہوئی ہے شاید پارٹی کو اس کا وہم و گمان بھی نہ تھا۔

اگرچہ کانگریس کو ریاست میں کامیابی کا یقین تھا لیکن اِس پیمانے پر کامیابی کے بارے میں کانگریس نے سوچا بھی نہیں تھا۔

ریاست کے آر آیل سیما، آندھرا اور تلنگانہ کے تینوں علاقوں میں تیلگو دیشم کو ہار کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔

کانگریس نے دو سو چورانوے نشستوں والی اسمبلی میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر دو سو چھبیس سیٹوں پر کامیابی حاصل کر کے دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے جبکہ ٹی ڈی پی کو سینتالیس اور اس کی حلیف بی جے پی کو صرف دو سیٹیں ملی ہیں ۔

ٹی ڈی پی کی اس شکست سے مرکز میں حکمراں این ڈی اے یعنی قومی جمہوری محاذ کو زبر دست دھچکا لگا ہے کیونکہ ٹی ڈی پی، این ڈی اے کا سب سے اہم اتحادی ستون تھی۔

حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک ترجمان نے آندھرا پردیش کی اسمبلی انتخابات کے نتائج پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کی اسمبلی کے نتائج پارٹی کی امیدوں کے بالکل بر خلاف ہیں۔

چندرا بابو نائیڈو نے نو برس قبل اُس وقت کے وزیراعلیء این ٹی راما راؤ کے خلاف بغاوت کر کے خود اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا این ٹی راما راؤ مسٹر نائیڈو کے حقیقی سسر تھے جنہوں نے تیلگو دیشم پارٹی کی تشکیل کی تھی۔

بعد میں نائیڈو نے اپنی بہتر کارکردگی کے سبب عوام میں کافی مقبولیت حاصل کی تھی اور دوسرے اسمبلی انتخابات میں بھی زبر دست کامیابی حاصل کی تھی لیکن ان انتخابات میں ٹی ڈی پی کی شکست سے انکے نو سالہ دورہ اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔

چندرا بابو نائیڈو کا شمار ان چند وزرائے اعلیٰ کی فہرست میں ہوتا ہے جو اپنے ترقیاتی پروگرام اور سیاسی فہم و بصیرت میں مہارت کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔

مسٹر نائیڈو نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ریاست آندھر پردیش کو ایک اہم مقام دلانے میں کامیابی حاصل کی تھی جسکے سبب ملک میں جنوبی شہر حیدرآباد آئی ٹی کے ایک بڑے مرکز کے نام سے مشہور ہو گیا ہے۔

اسکے علاوہ انہوں نے افسر شاہی، بجلی اور تعلیم جیسے شعبوں پر بھی توجہ دینے کی کوششیں کی تھیں۔

لیکن انکی تمام ترکاوشیں صرف شہروں تک ہی محدود رہی ہیں اور وہ دیہی علاقوں پر خاطر خواہ توجہ نہ دے سکے۔

بارش کی کمی کے سبب ریاست میں مستقل کئی برس سے قحط کا ماحول اور کسانوں کو پانی اور بجلی کی فراہمی میں کمی کے سبب جہاں دشواریوں کا سامنا ہے وہیں سینکڑوں کسانوں نے قرضے کے بوجھ کے سبب خود کشی بھی کی ہے۔

کئی علاقوں میں خوراک کی کمی کے وجہ سے قحط کا موحول ہے آندھر پردیش کے کئی علاقوں میں پینے کے پانی کی بھی شدید قلت پائی جاتی ہے۔

غالباً ان وجوہات کی وجہ سے تیلگو دیشم پارٹی کو سخت حکومت مخالف رجحان کا سامنا تھا تجزیہ نگاروں کے مطابق چندرا بابو نائیڈو کی پالیسی اور انکی کارکردگی کا اثر دیہی علاقوں تک نہیں پہونچ سکا جس سے ضرورت مند استفادہ کر سکتے تھے۔

گاؤں کے باشندے جو حق رائے دہی کا استعمال زیادہ کرتے ہیں وہ بنیادی ضروریات سے محروم رہے ہیں۔

مسٹر نائیڈو ہندوستان میں جدید سیاست کی علامت سمجھے جاتے تھے جن کی جماعت نے مرکز میں این ڈی اے حکومت کو استحکام دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے ان کی ہار سے سیاسی حلقوں میں زبردست ہلچل پیدا ہو گئی ہے اور ان کی شکست کو این ڈی اے کی شائنگ انڈیا کی شکست سے تعبیر کیا جارہا ہے۔

گرچہ کئی بار ایسا بھی ہوا ہے کہ رائے دہندگان نے لوک سبھا اور اسمبلی کے انتخابات ساتھ ساتھ ہو نے کی صورت میں اسمبلی کے لیے ووٹ کسی ایک پارٹی کو دیا ہے جبکہ لوک سبھا کے لیے کسی دوسری پارٹی کو منتخب کیا ہے۔

فی الوقت بی جے پی اور ٹی ڈی پی دونوں ہی اس امید میں ہیں کہ کاش ایسا ہی ہوا ہو۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو شاید مرکز میں دو بارہ حکومت قائم کرنے کا این ڈی اے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد