سعودی شہریت: قانون میں تبدیلیاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب کی مشاورتی کونسل نے تارکینِ وطن کے سلسلے میں ایمیگریشن بل میں ایک نئی توثیق کی ہے۔ اگر سعودی حکومت کی طرف سے ایمیگریشن بل کی توثیق منظور ہو گئی تو سعودی خواتین کو یہ سہولت حاصل ہو جائے گی کہ وہ غیر ملکی شخص سے شادی کے بعد بھی اپنی شہریت برقرار رکھ سکیں۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد غیرملکی خواتین کے لیے بھی ممکن ہو جائے گا کہ وہ سعودی مرد سے شادی کرکے شہریت حاصل کر سکیں۔ اس قانون کے بنائے جانے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ سعودی اور غیرملکی خواتین و مرد کے درمیان شادی کا رجحان پچاس سال پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ ُاُس وقت رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے یہ لازم تھا کہ وہ کم از کم دس سال سے سعودی عرب میں رہائش پذیر ہوں جبکہ اِس وقت کم از کم پانچ سال کا عرصہ درکار ہے۔ انیس سو ساٹھ کے مقابلے میں آج کل سعودی شہریت حاصل کرنا کافی مشکل ہو گیا ہے۔ جبکہ انیس سو ساٹھ کے عرصے میں سعودی حکومت غیرملکی رہائشیوں کو شہریت دینے کے سلسلے میں کافی حد تک نرم تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||