بصرہ: تشدد میں کمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بصرہ میں برطانوی دستوں اور مقتدی الصدر کے مسلح حامیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کمی ہوئی ہے۔ تاہم برطانوی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ جھڑپوں کے دوران کم سے کم دو عراقی ہلاک اور سات برطانوی فوجی زخمی ہوئے۔ برطانوی فوج کا کہنا ہے کہ کئی لوگوں کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔ سنیچر کے روز شہر کے مختلف علاقوں شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کے ہزاروں مسلح حامیوں اور برطانوی فوج کے درمیان چھڑپیں شروع ہوگئی تھیں۔ مزاحمت کاروں نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی تھی تاکہ لوگ نہ تو شہر کے اندر داخل ہو سکیں اور نہ باہر نکل سکیں۔ عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ مقتدیٰ الصدر کی مہدی آرمی کے ارکان نے گشت کرنے والے برطانوی فوجی دستوں کو شہر کے مختلف حصوں میں حملوں کا نشانہ بنایا۔ وہ راکٹ کی مدد سے چلائے جانے والے گرینڈز اور رائفلوں سے مسلح تھے اور انہوں نے ہفتے کی صبح شہر کے مخلتف حصوں میں چیک پوسٹس بنانی شروع کر دیں۔ یہ اطلاع بھی ہے کہ مسلح افراد نے شہر کی اہم عمارتوں پر قبضہ کرنے کی بھی کوشش کی جس کا مقصد بصرے پر قبضہ قائم کرنا تھا۔ اطلاعات کے مطابق مسلح افراد نے گورنر ہاؤس پر بھی حملہ کرنے کی کوشش کی جسے برطانوی فوج نے ناکام بنا دیا۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ یہ پرتشدد واقعات اس وقت ہوئے جب سیاہ لباس میں ملبوس شدت پسند سڑکوں پر نکل آئے اور گشت کرنے والی برطانوی فوج پر فائرنگ کر دی۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ جھڑپیں بصرہ میں مقتدیٰ الصدر کے ایک نمائندے کے اس بیان کے ایک روز بعد ہوئی ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ برطانیہ کی کسی بھی خاتون فوجی کو پکڑنے کے عوض ایک سو پاؤنڈ انعام دیا جائے گا۔ برطانوی فوجیوں کو غلامی کی غرض سے پکڑنے والوں کو بھی انعام کی پیشکش کی گئی تھی۔ بصرے کے علاوہ کربلا، کوفہ اور نجف میں بھی امریکی فوج مہدی آرمی کے خلاف برسرپیکار ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||