امریکہ نئے حملوں پر کمر بستہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ عراق میں امریکی فوج فیصلہ کن قوت استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔ عراق میں نجف اشرف کے باہر ڈھائی ہزار امریکی افواج مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کے خلاف حملہ کرنے کے لیے تیار کھڑی ہے۔ عراق میں امریکی فوج کو دو مختلف محاذوں پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے۔ صدر کی تقریر کے وقت فلوجہ شہر سے مزید امریکیوں کے مرنے کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔ دریں اثناء روس نے کہا ہے کہ وہ عراق میں موجود اپنے شہریوں کو واپس بلا رہا ہے۔ نجف اشرف کے باہر امریکی ٹینک اور آٹلری حملے کے لیے تیار کھڑی ہے۔ مقتدی الصدر نے اپنے آپ کو ایک مقربے کے قریب محصور کر لیا ہے اور انہوں نے امریکیوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ مقتدی الصدر نے کہا کہ انھیں صرف خدا کا خوف ہے اور وہ اپنی جان کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ صدر بش نے کہا کہ مقتدی الصدر کو اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات کا جواب دینا ہو گا اور اپنی ملیشیاء کو ختم کرنا ہوگا۔ عراق میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار نے کہا ہے کہ عراقی نجف اشرف پر امریکی حملے سے خوف زدہ ہیں اور وہ اس مسئلہ کا سیاسی حل نکالنا چاہتے ہیں۔ عراقی سیاستدان اور علماء مذاکرات کرانے میں مصروف ہیں تاکہ اس حملے سے بچا جا سکے۔ فلوجہ میں جنگ بندی کے دوران بھی فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔ بیس عراقیوں پر مشتمل ایک گروپ نے امریکی فوج پر حملہ کیا اور اس کے بعد شدید جھڑپ ہوتی رہی۔ مغربی عراق میں چار امریکی میرین گزشتہ دو دن میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ حالیہ ہلاکتوں کے بعد گزشتہ سال مارچ کے بعد سے اب تک اپریل میں امریکیوں کا سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||