عراق پر پیچھے نہیں ہٹیں گے: بش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر بش نے کہا ہے کہ اگر عراق میں مزید فوج کی ضرورت ہو گی تو یقیناً بھیجی جائے گی لیکن امریکہ ان کے بقول عراق میں آزادی و جمہوریت کے مشن سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ وائٹ ہاؤس میں ایک غیر معمولی نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ کوئی استعماری قوت نہیں ہے وہ صرف عراق میں جمہوریت کا بول بالا کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت عراق میں تین طرح کی قوتیں کارفرما ہیں۔ ان میں ایک صدام حکومت کی باقیات، دوئم بیرونی جنگجو اور تیسرے شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کے چھاپہ مار۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ بظاہر تین قوتیں ہیں لیکن ان کا مقصد ایک ہی ہے یعنی عراق میں امریکہ اور اس کے ساتھیوں کو نقصان پہنچانا۔ صدر بش نے کہا کہ امریکہ تیس جون تک اقتدار عراقیوں کے حوالے کرنے کا پابند ہے تاہم ہماری ذمہ داری تیس جون کو ختم نہیں ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک عراق پوری طرح جمہوریت کی راہ پر گامزن نہیں ہو جاتا اور جب تک عراق میں غیر مہذب عناصر کا خاتمہ نہیں ہو جاتا امریکی مشن جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق کی صورتِ حال کا ویت نام سے موازنہ کرنا غلط ہے۔ صدر بش کا کہنا تھا کہ عراق کو ویت نام سے ملانے سے نہ صرف عراق میں مصرف عمل امریکیوں اور ان کی ساتھیوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے بلکہ دشمن کو بھی ایک غلط پیغام پہنچتا ہے۔ صدر بش نے مقتدیٰ الصدر سے کہا کہ وہ ان کے بقول ’اپنی ملیشیا‘ ختم کر دیں۔ صدر بش نے اصرار کیا کہ حالیہ گڑبڑ اور ہنگامہ آرائی عراقی اکثریت کی سوچ کا اظہار نہیں ہیں اور عراق میں نہ تو خانہ جنگی ہے اور نہ ہی عام بغاوت۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||