’گیارہ ستمبر کا بُش کو علم تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر بُش کو گیارہ ستمبر کے حملوں سے ایک ماہ قبل پتہ چل چُکا تھا کہ القاعدہ امریکہ پر حملے کرنے والی ہے۔ اگر ان خبروں کے تصدیق ہو جاتی ہے تو امریکی ایوان زیریں یعنی کانگریس کے کمیشن کے سامنے امریکی سلامتی پر صدر بُش کی مشیر کونڈیلیسا رائس کی گواہی تردید ہو جائے گی۔ کانگریس کا ترتیب دیا گیا یہ کمیشن سن دو ہزار ایک کے گیارہ ستمبر کو ہونے والے حملوں کی تفتیش کر رہا ہے۔ اپنی گواہی کے دوران مس رائس نے کہا تھا کہ اگست دو ہزار ایک میں صدر بُش کو جو خفیہ بریفنگ دی گئی تھی اس کا بیشتر حصہ اس تاریخی معلومات پر مبنی تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ اب تک کہاں کہاں دہشت گرد حملے ہو چکے ہیں۔
مگر اس صورتحال پر نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جو معلومات کی تفصیل یا میمو بریفنگ کے دوران پیش کیا گیا تھا اس میں یہ بتا دیا گیا تھا کہ القاعدہ امریکی جہازوں کو اغوا کرنے کے منصوبے بنا رہی ہے۔ کانگریس کے کمیشن کے اراکین نے وہائٹ ہاؤس سے اس خفیہ بریفنگ کی دستاویز کو عوام کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||