سری لنکا میں تامل باغیوں کی لڑائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا میں سرکاری اہلکاروں نے بتایا ہے کہ ملک کے شمال مشرقی علاقے میں تامل باغیوں کے دو مخالف دھڑوں کے درمیان لڑائی شروع ہوگئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق تامل باغیوں کے بڑے دھڑے نے دریائے ویروگل کے پار باغیوں ہی کے اس دوسرے دھڑے کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کیا ہے جس کی کمان کرنل کرونا کر رہے ہیں۔ کرونا کچھ عرصہ قبل تامل باغیوں کی تنظیم سے علیحدہ ہوگئے تھے۔ علاقے میں ایک حکومتی اہلکار کا کہنا ہے کہ باغیوں کے دھڑوں کے درمیان اس لڑائی میں دونوں طرف جانی نقصان ہوا ہے لیکن اس کی تفصیل پتہ نہیں چل سکی۔ سن دو ہزار دو میں ناروے کی ثالثی میں حکومت اور باغیوں کے درمیان جنگ بندی کے ایک معاہدے کے بعد ملک میں ہونے والی یہ پہلی بڑی لڑائی ہے۔ کولمبو میں بی بی سی کی نامہ نگار فرانسس ہیریسن لکھتی ہیں کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ باغیوں کی درمیان یہ لڑائی اپنی نوعیت کا واحد واقعہ ثابت ہوگی یہ کسی بڑی جنگ کا آغاز۔ کرنل کرونا نے گزشتہ ماہ تامل باغیوں کے بڑے گروہ سے یہ کہہ کر علیحدگی اختیار کی تھی کہ وہ باغی گروہ میں اپنی انتظامیہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ باغیوں کی تنظیم کے کرونا مخالف دھڑے نے کرونا کو غدار قرار دیتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ انہیں ہلاک کر دیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق باغیوں کے یہ دونوں گروہ دریا کے آر پار اپنے اپنے علاقے میں فوجی طاقت میں اضافہ کر رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل دونوں نے کہا تھا کہ ان کے پاس سات سو مسلح افراد ہیں۔ ٹیلی وژن پر انہیں دریا کے آر پار خندقیں کھودتے اور مورچے بناتے بھی دکھایا گیا تھا۔ باغیوں کے پاس بم اور رائفلیں تھیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||