’خفیہ میمومنظرِ عام پر لایا جائے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں کی تحقیقات کرنے والے کمشن نے وائٹ ہاؤس سے کہا ہے کہ وہ اس تحریر کو عام لوگوں تک پہنچنے دے جو ستمبر دو ہزار میں خود کش حملوں سے ایک ماہ پہلے امریکی صدر کو ارسال کی گئی تھی۔ اس تحریر کا ذکر، جس کا عنوان یہ تھا کہ بن لادن امریکہ پر حملہ کرنے کے بارے میں پر عزم ہیں، صدر بش کی قومی سلامتی کی میشر کنڈولیزا رائس نے جمعرات کے روز ایک تحقیقاتی کمیشن کے سامنے بھی کیا تھا۔ ادھر امریکہ کی حزبِ مخالف ڈیموکریٹ پارٹی کا کہنا ہے کہ کنڈولیزا رائس نے اپنی شہادت میں بعض اہم سوالوں کے جواب نہیں دیے۔ مگر حکمراں جماعت نے مس رائس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ الزامات اب ختم ہو جانے چاہئیں کہ صدر بش نے امریکہ کو القاعدہ کے حملوں سے بچانے میں غفلت کا مظاہرہ کیا۔ تحقیقاتی کمیشن کے سامنے مس رائس کا کہنا تھا کہ اگست دو ہزار میں صدر کو بھیجی جانے والی تحریر ایک تاریخی دستاویز تو ہے لیکن خطرے سے خبردار کرنے والی نہیں۔ انہوں نے کمیشن کے سامنے یہ اعتراف تو کیا کہ انٹیلی ججنس میں خامیاں تھیں مگر یہ کہا کہ حملوں کو کسی بھی طرح روکا نہیں جا سکتا تھا۔ جونہی مس رائس نے کمیشن کے سامنے اپنا بیان مکمل کیا، کمیشن کی طرف سے کہا گیا کہ چھ اگست کی تحریر کو منظرِ عام پر لایا جائے کیونکہ کمیشن کو پیش کردہ اکثر شہادتیں اسی تحریر کے گرد گھومتی ہیں۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکہ میں ڈیموکریٹ بھی کمیشن کے اس مطالبے میں شریک ہیں کہ چھ اگست والے میمو کو عام کر دیا جائے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ شاید اس سے ثابت ہوجائے کہ صدر بش نے سکیورٹی کے معاملے میں غفلت برتی تھی۔ تاہم حکمران ریپبلیکن پارٹی نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے اور بعض نے تو خود کمیشن پر بھی شکوک کا اظہار کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||