سری لنکا کے نئے وزیراعظم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا میں حالیہ انتخابات کے بعد ملک کے نئے وزیراعظم ماہندا راجاپاکسے نے اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا ہے۔ جمعہ کو ہونے والے انتخابات میں ملک کی صدر چندریکا کماراتنگا کا حکمراں اتحاد اگرچہ کامیاب تو ہوا تاہم ملک کی کسی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوسکی تھی۔ ماہندا راجاپاکسے صدر چندریکا کماراتنگا کی جماعت فریڈم الائنس کے ایک اعلیٰ رکن ہیں۔ فریڈم الائنس کو نئی پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے کے لئے مزید آٹھ نشستیں درکار تھیں۔ نئے وزیر اعظم کے اعلان میں تاخیر کا سبب یہ تھا کہ جماعت کے دو ارکان اس عہدے پر فائز ہونے کے لئے پر امید تھے۔ تقریب حلف برداری سے کچھ ہی دیر قبل راجاپاکسے نے عہد کیا کہ وہ تامل باغیوں کے ساتھ مذاکرات جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کولمبو میں اپنے بیان میں کہا ’امن مذاکرات جلد از جلد شروع کیے جائیں گے۔ امن ہماری ضرورت ہے‘۔ انہوں نے بھارت پر بھی زور دیا کہ وہ خطے میں امن کے لئے بڑا کردار ادا کرے۔ راجاپاکسے سابق فشریز وزیر رہ چکے ہیں۔ بی بی سے کے نامہ نگار فرانسس ہیریسن کا کہنا ہے کہ اس بار وزیر اعظم کا عہدہ اتنا بااختیار نہیں ہوگا کیونکہ راجاپاکسے ملک کی صدر کے حامی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||