روانڈا میں قتل عام کو دس سال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جگہ ہے روانڈا، وقت ہے رات کا اور جین پیری نامی ایک شخص اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں کو خبردار کرتا ہے کہ اسے ایک منصوبے کا علم ہے جس کے تحت روانڈا کے ٹُٹسیوں کو ٹھیک اسی طرح تہہ تیغ کیا جائے گا جیسے نازیوں نے یہودیوں کو کیا تھا۔ بلکہ ٹٹسیوں کی ہلاکت، یہودیوں کے مرنے کی رفتار سے بھی تیز تر ہوگی۔ رات کے اندھیرے میں ایک لیمپ کی روشنی میں جین نے اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں سے یہ بھی کہا کہ وہ ان کی مدد کر سکتا ہے اور انہیں اس مقام کا پتہ بھی دینے کو تیار ہے جہاں مردم کشی کے منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے اسلحہ رکھا گیا ہے بشرطیکہ اسے اور اس کے خاندان کے دیگر لوگوں کو سیاسی پناہ دے دی جائے۔ لیکن نیو یارک میں اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں کی زبان پر سیاسی پناہ کی درخواست کا ایک ہی جواب تھا یعنی انکار۔ آج کوئی نہیں جانتا کہ جین پیری کا کیا بنا۔ لیکن ہم سب یہ ضرور جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہُوا جن کی مدد کرنے پر جین پیری تیار ہوگیا تھا۔ ہُوا یہ کہ تین ماہ بعد انیس سو چورانوے میں غدار فوجیوں اور ہوٹو کے انتہا پسندوں کے منظم کردہ ان لڑکوں نے جن کے ہاتھوں میں بڑے بڑے خنجر ہوتے تھے، ٹٹسیوں کے خون سے روانڈا کی گلیاں سرخ کر دیں۔ اپنے خنجروں کی پیاس خون سے بجھانے کا عزم لئے ان لوگوں نے انہیں بھی نہیں چھوڑا جو ہوٹو کے معتدل رہنما تھے۔ آج تاریخ کے صفحوں پر درج ہے کہ ایک سو دنوں میں آٹھ لاکھ افراد ہو موت کی نیند سلا دیا گیا۔ مارنے والے سمجھتے تھے کہ دوسروں کو مارنا گویا ان کا فرض ہے۔ یہ قتل قبائلی جوش نہیں تھا، نہ سیاسی طور پر پیدا ہونے والی بد امنی کا نتیجہ تھا۔ انسانوں کا یہ قتل منظم کارروائی تھی۔ شاید یہ نہیں ہوتا اگر دنیا یہ کہہ دیتی کہ ایسا نہیں ہونے دینا اور پھر تھوڑی سے قوت کے ساتھ اس کو روکنے کی سعی کرتی۔ اقوامِ متحدہ نے ان سو میں سے کسی ایک دن کے لئے جن سو دنوں کے دوران آٹھ لاکھ انسان صفحۂ ہستی سے مٹ گئے، مردم کشی کا لفظ تک استعمال نہیں کیا۔ روانڈا میں اقوامِ متحدہ کی امن فوج گئی تھی لیکن اس کے پاس سہولتیں بہت کم تھیں۔ اقوامِ متحدہ نے امن فوج کی اکثریت کو لڑائی کے دوران واپس بلایا (اس وقت واپس بھیجنے کے لئے جب اکثریت خون میں نہا چکی تھی) امریکی محکمۂ خارجہ کی ایک ترجمان نے بعد میں یہ کہا کہ روانڈا میں مردم کشی نہیں بلکہ مردم کشی کے ’اکا دکا‘ واقعات ہوئے۔ شاید اس لئے کہ مردم کشی تسلیم کرنے کے بعد ایک عالمی معاہدے کے تحت اسے روانڈا میں مداخلت کرنا پڑتی۔ بعد میں اقوامِ متحدہ نے ایک فوج تیار کرنے کا سوچا لیکن امریکی فوجی گاڑیاں آنے میں تاخیر ہوئی اور اس تاخیر کی وجہ یہ تھی کہ امریکی گاڑیوں پر کونسا رنگ ہوگا اور رنگ کرانے کی پیسے کون دے گا۔ جب امریکی وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ ہیٹ کا ریڈیو سٹیشن قاتلوں کو قتل کے احکامات جاری کرتا ہے۔ لیکن اس ریڈیو سٹیشن کا کچھ بگاڑا جانا اس لئے مشکل ہوگیا کہ امریکی آئین میں تقریر کی آزادی کی اجازت ہے اور ریڈیو اس کا ذریعہ لہذا امریکی اقدام کے آڑے آئین آ گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||